تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 396
۳۸۷ فصل: فصل پنجم جلیل القدر صحابہ کا انتقال ۱۳۳۱ پیش / ۱۹۵۲ء کا سب سے اندوہناک حادثہ حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم ام المومنين رضی اللہ عنہا کا انتقال ہے۔حضرت سیدہ کے علاوہ بھی متعدد عظیم المرتبت صحابہ اس سال جہان فانی سے رحلت فرما گئے جن میں سے بعض مبارک ہستیوں کا ذکر اس فصل میں کیا جاتا ہے۔ا چوہدری غلام قادر صاحب متوطن سیالکوٹ :- (ولادت ۶۴-۱۲۸۰/۶۱۸۶۳ هـ بیعت و زیارت ۶۱۹۰۲- وفات ۳۱ صلح ۱۳۳۱ مش / ۱۳۱ جنوری ۴۱۹۵۲) حضرت مولانا عبد الکریم صاحب کے ماموں زاد بھائی اور حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوئی ف کے برادر اکبر تھے۔اکتوبر ۱۹۰۵ء میں ہجرت قادیان کی اور مسجد مبارک کی چھت سے تفصیل کمرہ دار ایچ میں رہنے لگے۔اکتوبر ۱۹۰۵ء سے ۱۹۳۵ء تک تعلیم الاسلام ہائی سکول میں مددگار کارکن رہے۔نظام المیت او تحریک یا جدید کے بیام ولی میں سے تھے۔باوجو د غربت کے حتی الوسع حضرت مصلح موعودہ کی ہر تحریک پر لبیک کہا۔منارہ اسیح ہال کے لئے سو روپیہ چندہ دیا تحریک وقف جائیداد کی تعمیل میں اپنا مکانی قف کر دیا اور اُس کی قیمت بھی داخل خزانہ کر دی۔تحریک جدید کا چندہ ہمیشہ شروع سال میں ہی ادا کر دیتے تھے۔جوانی میں نماز کے بالکل تارک تھے مگر بیعت کے بعد آپ عابد شب بیدار بن گئے یہ حضرت مولوی عبد الله صاحت ریحان ہوتا لوی :- د ولادت ۲۰ مئی ۶۱۸۸۱- بیعت ۱۷ار فروری ۶۱۹۰۱ - وفات ۳ ماه هجرت ۱۳۳۱ اهش سرمئی ۶۱۹۵۲ ) U روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد صلا تا ملا ، اصحاب احمد جلد اول ما من ( از مکرم ملک صلاح الله صاحب ایم۔اسے قادیان ، تالیف ۱۹۵۱ء)، الفضل ، تبلیغ ۳۳۱ مش حتی