تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 395
کی مخالفت نے انہیں زیادہ راسخ العقیدہ بنا دیا ہے۔یہ اپنے ارادوں میں اور زیادہ پختہ ہو گئے ہیں اور ان کے حوصلے نہ صرف بڑھتے ہیں بلکہ بڑھتے ہی بچا رہے ہیں۔یہ نظارہ دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ہمارے سے بعض علماء جذباتی نعرے لگا کر اور کانفرنسین منتقد کر کے اسی قلیل سی جماعت کے لئے اور زیادہ محمد منظم ہونے کے مواقع ہم پہنچا رہے ہیں۔میرے دل نے کہا۔اسے کاش ہمارے پیماء جذباتی نعرے لگانے اور کا نفرنسوں سے ہمارا لہو گرمانے کی بجائے ٹھوس بنیادوں پر اس جماعت کا مقابلہ کریں لیکن ٹھوس بنیادوں پر مقابلہ خالہ جی کا گر نہیں اس کے لئے منفی قسم کی جہد و جہد کی بجائے مخالص مثبت نوعیت کے عمل کی ضرورت ہے۔یعنی جو کام احمدی لوگ سر انجام دے رہے ہیں اسے ہم اور ہمارے مولوی صاحبان سر انجام دے رہے ہوں۔ان کا ایک کشن قائم ہے تو اس کے مقابلہ میں ہمارے دینی مشن ہونے یا ہمیں جو ان کے تکلیفی کار تیمار کو نہیں نہیں کر کے رکھ دیں لیکن اس کے لئے روپہلے سے زیادہ عزم و استقلال اور جذ بہ قربانی کی ضرورت ہے اور وہ ہم میں مفقود ہے۔چندے کی اپیلیں بہت ہیں اور کام کی تکمیل کوئی نہیں تیرے جتنے چاہونگا ولیکن عمل کے نام پر میدان صاف ہے۔اس قسم کے غلط جوش دکھاتے ہیں ہر وقت شیر ہیں کہ جو احمدیوں کو زیادہ تقویت پہنچانے کا باعث ہو اور کھاد کا کام دے کہ انہیں ترقی کے امکانات سے اور زیادہ ہمکنار کر دے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ کیا ہمارے لئے یہ بہتر نہ ہو گا کہ ہم تبلیغ و اشاعت کا ایک وسیلئے منصوبہ تیار کریں اور اسے نجار عمل نا کر اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیں میں یہ احمدیوں نے ہماری غفلت سے فائدہ اٹھا کر اپنا اجارہ قائم کر رکھا ہے۔کیا کوئی اللہ کا بندہ ہمیں اس بے کار قسم کے جوش سے نجات دلا کر عمل و کردار کے مثبت تقا مضموں سے آگاہ کرنے کا بیڑا اُٹھانے کے لئے تیار ہے ؟ اور اگر واقعی اس دل گردے اور قربانی و ایشار سکے مجتمے ہم میں موجود ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ موجود نہ ہوں تو پھر حکمت اور موعظہ حمنہ کے ذریعے میدانی عمل میں احمدیت کو ناکام بنا نا ہمارے لئے محض آسان ہی نہیں بلکہ انتہائی سہل ہے۔ہمارے چین مولویوں کی اندھی مخالفت اور لہو گرمانے کے موجودہ طریقے آجکل متمدن دنیا میں موثر ثابت نہیں ہوسکتے ہاں احمدیوں کے لئے مہمیز کا کام مزور دے سکتے ہیں کہ وہ اور زیادہ متحد منظم ہو جائیں۔ه بحواله الفضل ۸ صلح ۱۳۳۲ ش۔