تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 394
۳۸۵ مرزا صاحب نے آتے ہی کہا :۔یہ فاضلہ غیرضروری طور پر زیادہ ہے۔اس میں شک نہیں کہ ایک حد تک حفاظت بھی ضروری ہے لیکن اصل محافظ خدا تعالیٰ ہے۔حفاظت کے ظاہری سامانوں پر اس و ربیعہ بھروسہ کر نا خدائی حفاظت کے احساس پر گراں گزرتا ہے۔اس لئے اس فاصلہ کو ختم کیا جائے۔اور اگر دوسرے روز جلسہ شروع ہونے سے قبل اس فاصلہ کو پاٹا نہ گیا تو یکی تقریر نہیں کروں گا۔پس پھر کیا تھا مریدان باصفا اس جرات مندانہ اعلان پر جھوم ہی تو اُٹھے اور چاروں طرف سے امیر المومنین زندہ باد کے نعرے بلند ہونے لگے۔وہ تو مرید تھے اس لیئے ان کا جھو منا لازمی تھا لیکن مرزا صاحب نے کچھ اس دلیری سے یہ اعلان کیا کہ میں بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔مرزا صاحب تو دعا کے ساتھ جلسہ کا افتتاح کر کے واپس چلے گئے لیکن مجمع اپنی جگہ بیٹھا رہا مبلغین اسلام کی تقریریں سکتا اور سر دھنتا رہا۔اس روز تو بازار کی چہل پہل اور لوگوں کی بھیڑ بھاڑ دیکھ کر یں لائلپور واپس پہلا آیا دوسرے روز مرزا صاحب کی تقریر سے قبل میکں پھر وہاں بھا پہنچا لیکں نے دیکھا کہ واقعی اسٹیج اور سامعین کا درمیانی فاصلہ غائب تھا اور لوگ قریب قریب سٹیج سے لگ کر بیٹھے ہوئے تھے۔مرزا صاحب نے ساڑھے چالہ گھنٹے کی تقریر میں جماعتی تنظیم کے علاوہ ہلکی اورعالمی سیاست کے ہر اہم مسئلہ پر روشنی ڈالی اور بالخصوص احمدیت کے سر پھرے مخالفین کی طرف سے جو اعتراضات کئے یا بقول مرزا صاحب مجھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں ان کے انہوں نے وہ بجھے ادھیڑے کہ مجمع پر کیف کا عالم طاری ہو گیا اور سامعین کے چہروں پر ایسی بشاشت نظر آنے لگی کہ گو یا مخالفتوں کے شور اور مشکلات کے پہاڑ اٹھا نے ان کے لئے اب پہلے سے بھی زیادہ آسان ہو گئے ہیں پھر بھی اپنی طویل تقریر کو دلچسپ بنانے کے لئے مرزا صاب نے ساتھ کے ساتھ نہایت با موقعہ چٹ پٹے لطیفے بیان کئے کہ مجمع میں اللہ اکبر" کے بلند نعروں کے علاوہ گاہے گاہےمسکراہٹ اور ہلکی ہنسی کی خوش آئند آواز میں گونجتی رہیں۔اس تقریر کے بعد یوں معلوم ہوتا تھا کہ ایشار و وفا کے یہ پہلے اب پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں اور یہ کہ ان میں ایک نئی روح پھونک دی گئی ہے۔میں جس قدر بھی جمع کی کیفیت کا مطالعہ کرتا تھا اسی قدر میرا یہ احساس بڑھتا جا رہا تھا کہ مولویون