تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 375 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 375

چنا نچہ ہمارا ایمان ہے کہ غلبہ اسلام کے وہ وعدے جو خدا تعالیٰ نے اپنے پیارے مسیح سے کئے تھے عنقریب پورے ہوں گے اور تین سو سال نہیں گزریں گے کہ دنیا میں بجز اسلام کے اور کوئی مذہب قابل ذکر حالت میں باقی نہ رہے گا دوسرے مذاہب والے ہوں گے لیکن نہایت قلیل تعداد میں۔چوہدری صاحب نے درویشوں کی قابل رشک زندگی اور ان کے جذبۂ قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا کہ درویشوں نے احباب کو بھی پیغام بھیجا ہے کہ آپ اپنی پنج گانہ دعاؤں میں تمہیں بھولیں ہمارے دل مسترت سے لبریز ہیں کہ خدمت دین کی توفیق ہمیں مل رہی ہے اور اس نے خدمت کا موقعہ عطا فرما کر ہمیں حصول رضا کے بہترین مواقع عطا کئے ہیں ہم ہر طرح خوش ہیں البتہ آپکی دعاؤں کے طالب ضرور ہیں۔فی الحقیقت کسی درویش کے چہرے پر افسردگی نہ تھی وہ سب لبشاش تھے اور اس نشہ میں سرشار کہ انہیں شعائر اللہ کی حفاظت کا موقعہ مل رہا ہے اور خدا اور اسکے رسول کا نام بلند کرنے کی سعادت ان کے حصہ میں آ رہی ہے۔آپ نے درویشان قادیان کے ذکر سن کر اور علمی مشاغل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہائے درویش بھائی ہر آن دین کی خدمت میں مصروف ہیں اور ساتھ ساتھ علمی لحاظ سے ترقی کرنے کی منکر بھی انہیں دامنگیر ہے۔چنانچہ جو چیز میرے لئے انتہائی مسرت کا باعث ہوئی وہ یہ تھی کہ ڈسکہ کا ایک نوجوان رویش پہلے علم سے بالکل کو راتھا اور اپنے پیشے کے اعتبار سے حصول علم کی طرف اس کا مائل ہونا ممکن نظر نہ آتا تھا لیکن درویشی کی حالت میں اسے لکھنے پڑھنے اور دین کا علم حاصل کرنے کی طرف تو تبہ پیدا ہوئی اس نے علم حاصل کیا اور اتنا حاصل کیا کہ اسے مبلغ بنا کر ہندوستان کے ایک علاقے میں بھیج دیا گیا وہاں خدا نے اس کی تبلیغی کوششوں میں برکت دی اور اس نوجوان کے ذریعہ جو پہلے علم سے بالکل کو راتھا خدا نے سبات خاندانوں کو قبول حق کی توفیق عطا فرمائی جن کے افراد کی تعدا د ستر کے قریب بنتی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کرتا ہے خدا تعالیٰ کی غیرت یہ کبھی گوارا نہیں کرتی کہ اسے ضائع ہونے دیا جائے خدا خود اس کا متکفل ہوتا ہے اور اس سے وہ کام لیتا ہے کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے۔چوہدری صاحب نے غیر مسلموں کے ساتھ درویشوں کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ جب ابتدائی ایام میں ہندو اور سکھ تارکین وطن وہاں پہنچ کر آباد ہوئے تو انسانی ہمدردی کے طور