تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 374
سم حضرت مصلح موعودؓ کا مندرجہ بالا پیغام پورے جلسہ کی روح رواں تھا جس نے بھارتی جماعتوں میں اشاعت اسلام کی نئی روح پھونک دی۔علماء احمدیت کی تقاریر بھی ازدیاد ایمان کا باعث بنیں۔اس مبارک جلسہ سے فاضل مقررین خطاب کرنے والوں مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل یاد گیر، گیانی واحد حسین صاحب، مولوی شریف احمد صاحب امینی، مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری، مولوی حمد سلیم منا، گیانی عباداللہ صاحب ، حضرت حکیم خلیل احمد صاحب مونگیری ، حضرت مولوی رحمت علی صاحب مجاہد انڈونیشیا جیسے فاضل اور ممتاز مبلغین سلسلہ تھے۔صدارت جلسہ کے فرائض انجام دینے والے اصحاب کے نام یہ ہیں :- جلسہ کے صدر حضرت سیٹھ عبدالله الدین صاحب حیدر آباد دکن ، حضرت مولوی عبدالامین صاحب فاضل سید بشارت احمد صاحب وکیل حیدر آباد، مولانا ابو العطاء صاحب، چوہدری اسد اللہ خاں صاحب ( امیر قافله) امیر قافلہ چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب نے قادیان سے مراجعت کے تاثرات قادیان بعد لا ہور میں ایک تقریر میں اس کامیاب جلسہ کے تاثرات بیان فرمائے۔آپ نے درویشوں کے عملی نمونے، ان کی تبلیغی بعد وجد اور اس کے خوشکن اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور فرمایا کہ غیر اسلامی ماحول میں درویشوں کی بستی کا موجود ہوتا اور اپنے کردار سے اس ماحول کو متاثر کر نا صاف اِس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ آج اگر دنیا میں اسلام زندہ رہتا ہے تو اس جماعت کی مجاہدانہ کوششوں کے ذریعہ ہی رہ سکتا ہے جسے خدا نے اس زمانہ کے مصلح حضرت مرزا غلام احمد قا دیانی علیہ الصلوۃ والسّلام کے ہاتھوں قائم کیا ہے۔اس میں شرک نہیں کہ مرکز سے بعد ائی پر ہمارے دل افسردہ ضرور ہیں لیکن اس میں بھی خدا تعالیٰ کی ایک حکمت کار فرما تھی۔اسنے اپنی وراء الواسی حکمتوں کے تحت ایک وسیع علاقے کو اسلام کے روحانی ورثہ سے خالی کر کے اور وہاں درویشوں کے وجود میں ایک مختصر سی جماعت باقی رکھ کر تبلیغ کا میدان بے انتہاء وسیع کر دیا ہے ہوسکتا تھا کہ اگر ہم مرکز میں ہی تقسیم رہتے تو تبلیغ سے فاضل ہو جائے، بورا نے عالینی چدائی ڈال کر تمہیں بیدار کر دیا اور ساتھ ہی ایسے حالات بھی پیدا کر دیئے کہ ہم تبلیغ کے مواقع سے فائدہ اُٹھاتے چلے جائیں