تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 367 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 367

۳۵۸ آنکھیں بھی بند نہیں کر سکتے۔پس دل سے آپ کی اس قربانی پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور جزا کم شد کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو مزید قربانیوں کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کا بجٹ لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں اور کروڑوں اربوں تک پہنچے تاکہ تمام مشرقی ایشیا میں آپ کے ذریعہ سے اسلام اور احمدیت کا جھنڈا بلند ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت ظاہر اور باطن پر قائم ہو جائے۔اللہم آمین دوسرا امر جس میں آپ لوگوں نے ترقی کی ہے وہ مرکز سے تعلقات کا ہے۔اس سال کچھ نئے طالب علم بھی یہاں آئے ہیں اور بڑی خوشی کی بات یہ ہے کہ آپ آپ میں سے بہت سے لوگوں نے میرے ساتھ خط و کتابت بھی شروع کی ہوئی ہے جو کہ پہلے نہیں ہوتی تھی۔اس ذریعہ سے مجھے بھی آپ لوگ یا د آتے رہتے ہیں اور دعا کی بھی میرے دل میں تحریک ہوتی رہتی ہے اور یہ خوشی بھی محسوس ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس دور دراز ملک میں بھی مجھے ایسے روحانی فرزند بخش چھوڑے ہیں جن کے دلوں میں میری محبت ہے اور جن کے خیالات بار بار میری طرف پھرتے رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی اس کنونشن کو مبارک کرے اور گذشتہ سال سے بھی زیادہ خدمت کی توفیق دے۔یادر ہے کہ بغیر اچھے لٹریچر کے تبلیغ نہیں ہو سکتی اس لئے آپ لٹریچر کی طرف زیادہ توجہ کریں اور مختلف مضامین کے متعلق کتابیں اور رسالے اپنی زبان میں لکھ کر اپنے ملک میں شائع کریں۔دوسرے اس امر کا بھی خیال رکھیں کہ سب سے زیادہ انڈونیشیا کی حفاظت اور اس کی ترقی کی ذمہداری احمدیوں کے کندھوں پر ہے کیونکہ آپ دوسروں سے زیادہ ایمان کے مدعی ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَان بے وطن کی محبت بھی ایمان کا ایک جزو ہے پس اگر آپ میں ایمان زیادہ ہے تو آپ کی محب الوطنی بھی دوسروں سے زیادہ ہونی چاہیئے لیکن حب الوطنی کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ انسان تحت بنی نوع انسان سے محروم ہو جائے۔حب الوطنی محبت بنی نوع کا ایک حصہ ہے جیسے انسان اپنے ماں باپ سے محبت کرنے کے بعد اپنے بھائی بہن کی محبت سے آزاد نہیں ہو جاتا بلکہ ماں باپ کی محبت جتنی زیادہ ہو بھائی بہنوں کی محبت اسی نسبت سے زیادہ ہونی چاہیئے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خَلَقَ لَكُم کے موضوعات کبیر من از مولانا امام علی القاری طبع دوم مطبع مجتبائی دہلی ۱۳۱۴ھ / ۲۶۱۸۹۶