تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 356 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 356

۳۵۴ متعلق کہتا ہوں بلکہ چودھویں صدی کی ابتداء کے متعلق کہتا ہوں جب بظاہر مسلمانوں پر موت آگئی کہ اس وقت بھی خدا تعالیٰ کے ایسے بندے موجود تھے جو اسلام کی تبلیغ کرتے تھے مثلاً مغربی افریقیہ ہے اس میں اسلام بہت قریب کے زمانہ میں پھیلا ہے یعنی اس ملک میں تبلیغ ، ۷۰ یا۔۔اسال کے اندر ہوئی ہے۔بالعموم بریری، شامی اور سوڈانی لوگ وہاں گئے اور انہوں نے اسلام کی تبلیغ کی جس کے نتیجہ میں لاکھوں لوگ مسلمان ہوئے۔ہے پس انفرادی حیثیت سے مسلمانوں میں آخر تک تبلیغ ہوتی رہی ہے گو محدود ہوئی ہے لیکن اجتماعی رنگ میں تبلیغ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہی قریباً مفقود ہوگئی کیونکہ خلفاء ان جنگوں میں بھی جو عیسائیوں اور زرو پشتیوں کے مخلاف لڑی گئیں اس قدر الجھ گئے کہ اس وقت جہاد اور تبلیغ دونوں کو ایک سمجھ لیا گیا اور خلفاء کے بعد مسلمانوں پر جمود طاری ہو گیا۔وہ دنیوی شان و شرکت اور ترقیات وہ کو اپنا منتہائے مقصود سمجھ بیٹھے اور تبلیغ کی اصل روح کو بھول گئے۔پس انفرادی طور پر اسلام میں نہایت عظیم الشان لوگ پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے تبلیغ اسلام کے فرض کو اچھی طرح ادا کیا۔افغانستان میں مسلمان پھیل گئے۔افریقہ میں وہ گئے اور وہاں تبلیغ کی۔وہ چین، جاپان ، انڈونیشیا اور ہندوستان میں آئے اور یہاں اسلام کی تبایے کی اور لاکھوں لوگ انکے ذریعہ مسلمان ہوئے۔عرض انہوں نے تبلیغ کی اور بڑی شان سے تبلیغ کی لیکن یہ انفرادیت تھی جتما عیت نہیں تھی حالانکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا وَلْتَكُن مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلى الخير وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُونِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنکونے یعنی تم میں ہمیشہ ایک ایسی امت ہونی چاہئیے جو لوگوں کو بھلائی کی طرف میلائے اور انہیں نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔اور رافقت کے معنے ایسی ہی جماعت کے ہیں جو اپنے اندر نظم رکھتی ہو۔چونکہ امت او را نام ایک ہی ماؤے سے نکلے ہیں اس لئے در حقیقت اُمت وہی ہے جو اپنا مرکز رکھتی ہوا جب وہ مرکز سے نکل جائے گی ہم اُسے اُمت نہیں کہیں گے۔یہی وجہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو امت محمدیہ کہتے ہیں مسلمانوں میں چاہے کتنا لے ملاحظہ ہو تاریخ اشاعت اسلام نه ماوه روانی ام اما این انی اری الا علی اینڈ سنز لاہوری طبع اول ۶۱۹۶۲- دعوت اسلام PREAKING OF ISLAM سر تھامس آرنیا زیر حالات آفریقہ میں اشاعت اسلام سے آل عمران : ۱۰۵ ہے