تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 355
۳۵۱ جذبات کی رو میں بیٹھے کہ اگر آج جماعت احمدیہ کو اقلیت قرار دے دیا جائے تو آئندہ شیعہ حضرات کے خلات بھی ہیں آواز اُٹھائی جا سکتی ہے، اس کے بعد آہستہ آہستہ شافعی، خلیلی، مالکی وغیرہ سب فرقوں کے بارہ میں ہی اقلیت قرار دیئے جانے کا سوال اُٹھ سکتا ہے لہذا اس کے خطرناک نتائج اور سلمانوں کے اندرونی خلفشار کا تصور کرتے ہوئے آج مسلمانوں کے اندر آپس میں اتحاد اور اتفاق کی پہلے سے بھی زیادہ ضرورت ہے۔یہ امر باعث خوشی ہے کہ موجودہ لم لیگی زعماء نے اس سوال کے خطرناک نتائج کو بر وقت بھانپ لیا ہے۔بنگلہ سے ترجمہ) استید نا حضرت امیر المؤمنين المصلح الموعود نے دور تبلیغ اسلام کاعالمی ادارہ تحریک دیت کو اس بنیادی نعت کا طالب جماعت کو توجہ دلائی کہ قیامی تحریک جدید کا مقصد دنیابھر میں تبلیغ اسلام ہے جومحض انفرادی قرض نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا اجتماعی فرض ہے۔چنانچہ فرمایا۔" تحریک جدید ہمیشہ کے لئے قائم رہنے والا ادارہ ہے جب تک قوم زندہ رہے گی یہ ادارہ قوم کے ساتھ وابستہ رہے گا اور جب افراد میں زندگی منتقل ہو جائے گی یعنی جماعت کے کچھ افراد مردہ ہو جائیں گے اور کچھ زندہ رہیں گے تو یہ ادارہ زندہ افراد کے ساتھ وابستہ ہو جائے گا۔اسلام کی گذشتہ تاریخ میں جہاں مسلمانوں سے بعض بڑی بڑی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں وہاں ایک اہم ترین غلطی ان سے یہ ہوئی کہ تبلیغ کو انفرادی فرض سمجھ لیا گیا۔بے شک مسلمانوں میں مبلغ رہے، گذشتہ صدیاں تو الگ رہیں قریب کے زمانہ تک بھی مسلمانوں میں مبلغ رہے بلکہ اس زمانہ تک رہے جس کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ اس میں اسلام مٹ گیا اور مسلمانوں پر موت طاری ہو گئی، اس میں بھی خدا تعالٰی کے کچھ بندے ایسے تھے جو زندہ تھے اور تبلیغ اسلام کے فرض کو ادا کرنے میں خوشی ، رغبت اور لذت محسوس کرتے تھے۔پہلی صدی کو تو جانے دو جب ہر سلمان ہی ایک مبلغ تھا، دوسری صدی کو بھی بجانے دو، تیسری صدی کو بھی جانے دو، چو تھی پانچویں چھٹی اور ساتویں صدی کو بھی بجانے دو جب تبلیغ کرنے والے اور اس کا انتظام کرنے والے بڑے اہم آدمی تھے، ان کی بعد کی صدیوں کو بھی جانے دو جب تبلیغ نہایت محدود دائرہ کے ساتھ وابستہ رہ گئی تھی لیکن پھر بھی لوگ دوسرے ملکوں میں جاتے تھے ، میں تو تیرھویں صدی کے لے روزنامه الفضل ۲۹ انفاء (۱۳۳ مش مش (ترجمہ)