تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 23
۲۱ بی بی ایس سی، بی ٹی ریٹائر ڈشیں تعلیم الاسلام ہائی سکول حال ناظر بیت المال (خرج ) (ولادت ۱۹۔ٹیچر اکتوبر ۶۱۸۹۸) ۳۔ڈاکٹر غلام مصطفے صاحب (ولادت ۳۰ مارچ ۶۱۹۰۱ ) ۴- زینب بی بی صاحبہ ولادت ۳۱ دسمبر ۱۹۰۳ء) ۵ - آمنہ بی بی صاحبه ( ولادت در دسمبر ۲۶۱۹۰۵ ۶ چوہدری غلام مرتضی صاحب بی۔اے ایل ایل بی بیرسٹر وکیل القانون تحریک جدید (ولادت ۲۱ دسمبر ۱۹۰۹ء) ۷ غلام احمد مرحوم (ولادت ۱۵ اپریل ۱۹۱۲ء وفات ۱۸ مارچ ۱۱۹۳۲) ۸ - چوہدری غلام نبیین صاحب بی ۴ سابق مبلغ اسلام امریکہ (ولادت ۲۸ فروری ۶۱۹۱۵ ) ۹ - امتہ اللہ صاحبہ (ولادت ۱۳ نومبر ۶۱۹۹۲ حضرت حافظ عبد العزیز صاحب متوطن سیالکوٹ چھاؤنی :- (ولادت تقریباً ۱۸۷۳ء بیعت ۸۹۶الله وفات و نبوت ۱۳۳۰ بهش / ۹ نومبر ۶۱۹۵۸ سیالکوٹ چھاؤنی کے ایک موقعہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد چوہدری ابتدائی حالات نبی بخش صاحب بہت متدین اور مہمان نواز تھے۔آپ نے بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کر لیا۔آپ نہایت صحت اور خوش الحانی سے کتاب اللہ کی تلاوت کیا کرتے تھے۔خاندانی و سجا ہت کے علاوہ اپنی ذاتی خوبیوں کے باعث بچپن ہی سے محبت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔پاکیزہ دینی ماحول میں جوان ہوئے اور عنفوان شباب ہی سے مذہبی مطالعہ کرنے اور دینی مجالس میں بیٹھنے کا شوق تھا۔صدر بازار سے آپ شہر سیالکوٹ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا درس سننے کے لئے آیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چر چائنا تو اپنے پیر و مرشد سید سلسلہ احمدیہ میں شمولیت جماعت علی شاہ یا علی پوری رانی سے پوچھا کہ مزا صاحب اپنے دعوے میں کیسے ہیں جواب ملا کہ (نعوذ باللہ) جھوٹے ہیں۔آپ نے دلیل مانگی تو پیر صاحب موصوف نے فرمایا مرید کا کام دلیل مانگنا نہیں بس پیز نے کہا اور مرید نے مان لیا مگر حافظ صاحب ہر بات دلیل سے ماننے کے عادی تھے اس طرح اندھا دھند تقلید آپ کے مزاج اور فطرت کے منافی تھی۔آپ نے مولوی مبارک علی صاحب سیال کوئی اور پیر صاحب کی دعوت کی۔دونوں میں ندی گفت گو ہوئی اس تبادلہ خیالات میں پیر صاحب احمدیت کے علم کلام کے سامنے ٹھہر نہ سکے اور کوئی تسلی بخش جواب لے بروایت سردار عبدالحمید صاحب آڈیٹر بر اور اصغر سے ولادت ۶۱۸۶۰ وفات ۱۹۳۹ء ( صوفیائے نقشبند از سید امین الدین احمد صاحب ناشر مقبول اکیڈیمی لا ہو ر طبع اول ۶۱۹۷۳ )