تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 319
۳۱۵ خواه سر کاری تقریبات کے مواقع پر ہو یا ان کے علاوہ۔مان امور کی بناء پر یہ بات بڑی تکلیف دہ ہے کہ جناب ظفر اللہ خان کی ذات پر کفر کا اتمام لگایا ہے ہم جانتے ہیں کہ و شخص اسلامی اخلاق سے آراستہ ہے اور اسلامی روایات اور سنت پر عامل ہے۔ظفر اللہ خان مصر میں کئی مرتبہ آئے ہیں ہم نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کرتے ہیں اور ان کے معاملات ہیں ان کی مدد کرتے ہیں۔اور آپ ہر ایسے معاملہ میں جس میں اسلام اور مسلمانوں کی شان بلند ہوتی ہو دلیر ہیں۔اس بناء پر اس شخص کے مسلمان ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ان اشیخ علام نصاری کا بیان اسی کے عایق یعنی این مقام انصاری نے اپنے بیان میں نہ تو یہ جائز ہے اور نہ آسان کہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے کسی فرقہ پر کفر کا فتوی لگا یا جائے اور نہ ایسے دلائل ہی پائے جاتے ہیں جو اس امر کو جائز قراردیں کہ قادیانی جماعت پاکستان میں اسلام سے خارج ہے۔میں اس امرکو مناسب نہیں سمجھتا کہ ایک عظیم سیاسی آدمی پاکستان کے وزیر خارجہ کی پوزشی جیسے شخص سے تعرض کیا جائے کہ ان کا دین کا عقیدہ کیا ہے حالانکہ و شخص دین اسلام کا علی الاعلان اظہا کرتا ہے۔اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے بڑی بڑی مجالس میں دفاع کرتا ہے۔اپنے موقف اور بیانات کی تائید میں قرآن کریم اور احادیث محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور دلیل پیش کرتا ہے اور علی الاعلان اس کی اقتداء کا اظہار کرتا ہے اور اسلام کو ہی بہترین رابطہ مصر، اسلامی ممالک اور پاکستان کے درمیان تعیین کرتا ہے اس لئے دین میں انصاف کی خاطر یہ امر حکمت کے خلاف ہے کہ کوئی ان کو خارج از اسلام قرار دینے کی مصیبت میں مبتلا ہو حالانکہ وہ شخص اپے اسلام کا کھلم کھلا اظہار کرتا ہے اور اس کو پاکیزہ تعلق یقین کرتا ہے۔اسلام اورا قوام اسلامیہ کی خدمت کے لئے قابل قدر ہستی سے کام لیتا ہے ان کے دوست اور جاننے والے اشخاص (جو مصر میں اکابرین اسلام ہیں) کی آراء سے یہ واضح تاثر لیا جاتا ہے کہ وہ آپکو ایک مسلم شخصیت ہی تصور کرتے ہیں جو اسلام کے آداب اور شرائط پر مضبوطی سے عامل ، اسلامی اخلاق و صفات سے مزین اور اسلام کی اتباع اور اس کے اصول کے الزام پر ترغیب دیتے ہیں۔له البلاغ ۲۶ جون ۶۱۹۵۲ *