تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 318
۳۱۴ ناممکن ہے کہ وہ کوئی ایسا عقیدہ اختیار کریں جو قرآن کے خلاف ہو لیکن یہ عقیدہ قرآن کے ہر گئے مخالف نہیں ہے۔آیت قرآنی خاتم النبلی زمین کے ساتھ اس امر کا اظہار کر رہی ہے اور زمجر کے ساتھ ہی آیت وارد ہوئی ہے۔زیر کے ساتھ وارد ہوئی ہوتی تو یہ قطعی دلیل ہوتی کہ محمدعلیہ السلام کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔قرآنی آیت میں لفظ خاتم کی وہ خاص تاویل کرنے لگا جس کی رو سے انبیاء کے ظہور کے لئے دروازہ کھلا ہے اور اس میں ان کے لئے کوئی روک نہیں ہے۔بعد انہاں امام نے نبی اور رسول کے فرق کو بیان کرنا شروع کر دیا۔ان قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ محمد کے بعد کوئی رسول نہیں ہے اور آپؐ کی رسالت ہی آخری دینی رسالت ہے لیکن وہ یہ بھی عقیدہ دیکھتے ہیں کہ یہ مکن ہے کہ آپ کے بعد انبیاء ظاہر ہوں بینکا کام احیاء شریعت ہو اور اس کی تعلیم کی انسانی اشاعت قادیانی بھی ان انبیاء سے ایک ہے جو لوگوں کو اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی شریعیت پر عمل کونے کی تلقین کرتا ہے۔اس صورت میں یہ لوگ تاویل کرنے والے ظہر تے ہیں نہ کہ قطعی منکر اور تاویل کرنے والے کا حکم قطعی مکر جیسا نہیں ہوا کرتا ہے الشیخ محمد ابراہیم سالم بک (سابق چین جیٹس ہائیکورٹ الشیخ محمد ابراہیم سالم یک کا بیان مصر نے ایک بیان میں کہا۔:- بلاشبہ ہماری طرف سے یہ جلد بازی ہوگی کہ ہم قادیانیوں پر کفر کا فتو ی لگائیں اور یہ اس لئے کہ ہمیں ابھی تک ایسے وسائل میسر نہیں کہ ہم اس مذہب کے متعلق علم اور اس کے میلانات بذیعہ کتب معلوم کر سکیں۔اور جب تک ہمیں اس مذہب کے متعلق کچھ معلوم نہ ہو تو یہ جلد بازی اور مہارت ہو گی کہ ہم اس مذہب کے پیرو کاروں پر کفر کا فتویٰ لگا وہیں۔وہ اس وقت تک مسلمان ہی نہیں جب تک کہ ان کے کفر پرولیل قائم نہیں ہو جاتی۔اس کے علاوہ میں سمجھتا ہوں کہ کئی ایسے پہلو ہیں جو فرقہ قادیانی کے مسلمان ہونے کی تائید کرتے ہیں بلکہ ان کے دسلمان ہونے کی تائید میں یہ پہلو بھی ہے کہ احمدی اسلام اور مسلمانوں کی تائید کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے بلکہ ہر موقعہ سے پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہ تائید لة المصري ۲۷ جون ۵۸۱۹۵۲