تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 314
اسی طرح ہمیں رحم آتا ہے محمد علی علویہ پانشا پر احمد نقشابہ پاشا دیگر سیاستدانوں اور دنیا ئے عرب و اسلام کے نقتند رندترین پر جو چوہدری محمد ظفر اللہ خان کو جانتے ہیں اور مصر فلسطین ، تونس اور دیگر مسلمان و عرب مملکتوں کے مفاد کی خاطر آپ نے جو دوڑ دھوپ کی ہے وہ اس سے بخوبی واقف ہیں۔یہ سب بدترین کیا سوچتے ہوں گے ہمیں رحم آتا ہے ان سب پر اور پھر خود مفتی پر۔اس نے صفائی کا موقعہ دئے بغیر خوا خواہ ایک شخص کو مجرم قرار دے دیا اور اس پر بے دینی کا الزام لگا ڈالا خدا کی پناہ بخدا کی پناہ۔ظفر اللہ خالی ہماری ہمدردی کے محتاج نہیں ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیںکہ وہ اب بھی اسلامی مفادات کی حفاظت کی خاطر اسی طرح سینہ سپر رہیں گے اور مصر کے ساتھ اپنی دوستی کا دم بھرتے رہیں گے مفتی نے ظفر اللہ کو کا فرو بے دین قرار دیا ہے۔آؤ ہم سب مل کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان پر سلام بھیجیں۔ظفر اللہ خاں کافر کے کیا کہنے ان جیسے اور بڑے بڑے دسیلوی" کافروں کی ہمیں ضرورت ہے۔بال آخریم پوچھتے ہیں کہ حکومت مصر اس بارے میں کیا کہنا چاہتی ہے؟ ایسی حالت میں اس پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے ؟ اس سلسلہ میں وہ کیا بیان جاری کرے گی ؟ اور یہ کہ آئندہ اُسے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیئے تا کہ اسے محض چند احمقانہ الفاظ کی وجہ سے جو کوئی عاقبت نا اندیش سوچے سمجھے بغیر زبان سے نکال دے اپنے محدودے چند دوستوں کی رفاقت سے ہی ہاتھ دھونا پڑے۔بے مصر کی با اثر شخصیت احمد خشابه پاشا کا حسب ذیل بیان اخبار احمد خشابہ پاشا کا بیان الزمان ( ۲۵ جون ۱۹۵۲ء) میں شائع ہوا : (ترجمہ) خشابہ پاشا نے اعلان کیا ہے کہ مجھے اس فتولی سے سخت رنج پہنچا ہے کیونکہ چوہدری محمد ظفراللہ خان نے اسلام اور عرب دنیا کی بالعموم اور مصر کی بالخصوص بہت مات سر انجام دی ہے۔عالم اسلام ان کی خدمات جلیلہ کے لئے ان کا ممنون احسان ہے ، خشابہ پاشا نے مصر کے معاملات میں چھ بڑی محمد ظفر اللہ خان صاحب کی اس تائید و حمایت کا بھی ذکر کیا ہے جو موصوف نے اقوام متحدہ کے مختلف اجلاسوں میں ہمیشہ روا رکھی اور بالخصوص سلامتی کونسل کی نشست حاصل کرنے میں نه المصری ۲۶ جون ۱۹۵۲ بجواله البشر کی مجله ۱۸۱۱ مثلا صلا حیفا فلسطین