تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 309 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 309

وهكذا ردّ على قول ظفر الله خان انه لا يجب ان يبقى على رأس دولة اسلامية ملك فاسق !! وثارت الصحف فى مصر والباكستان تحمل على المفتى المدفوع واقسم الهلالي۔وكان رئيسا للوزارة ليعز لنه من منصبه جزاء رعونته ولكن الهلالى لم يلبث ان تبين الامر وعرف ان الملك لا يقبل ابدا ان تمس شعرة من رأس مخلوف هذه الرأس التي تخرج له الفتاوى والتحليلات !!" صفحه ۷۱-۲-۲۷۳ (ترجمہ) چوہدری محمد ظفر اللہ خان صا سب اپنی جرات اور دلیری میں مشہور ہیں۔آپ ایک مرتبہ پاکستان واپس جاتے ہوئے قاہرہ سے گزرے تو قاہرہ میں آپ کو شاہ فاروق سے ملنے کا اتفاق ہوا۔بیرونی دنیا میں انہوں نے ایک لمبا عرصہ گزارا ہے۔فاروق کی ایسی رسوائن اور بیہودہ حرکات کے متعلق انہیں پڑھنے کا اکثر موقعہ ملا ہے جو فا روق ملک مصر اور تمام مشرقی ممالک کی بدنامی اور رسوائیوں کا موجب ہیں۔چنانچہ چوہدری صاحب نے نہایت حکمت، دانشمندی اور کمال ملاطفت کے ساتھ شاہ مصر سے کہا کہ ساری دنیا کی نظریں عالیم اسلام پر ہیں۔اسلامی ملکوں کے دشمن بے شمار ہیں اور ان کی تاک میں ہیں نیز ان کی لغزشوں پر نگاہ رکھتے اور شمار کرتے رہتے ہیں۔ان حالات میں مسلمان حکومتوں کے سربرا ہوں اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ اپنی زندگی میں اسلامی طریقوں کو رواج دیں اور اسلامی قوانین کی پابندی کریں تا ان کی راستباز زندگی ان کی قوموں کے لئے نمونہ ہو اور تمام دنیا کے لئے اسلام کی تبلیغ کے پروپیگنڈا کا موجب ہو۔شاہ فاروق چوہدری صاحب کا مقصد بھانپ کر فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور ملاقات ختم کر دی ہی شاہ فاروق نے وزیر خارجہ پاکستان کی اس جرات پر اپنا غیظ و غضب چھپایا اور موقعہ کی تلاش میں رہے بشیخ مخلوف بھی موقع ڈھونڈتے رہے مفتی الدیار المصریہ کی بجائے وہ شاہی محلات کے مفتی کہلانے کے زیادہ مستحق تھے۔شیخ مخلوف نے بالآخر موقع پاتے ہی اس سے فائدہ اُٹھایا اور ایک عجیب بیان شائع کر دیا ۱۹۷۵ ء میں اس جلد کے پہلے ایڈیشن میں جب یہ اقتباس شائع ہوا تو حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے سختی سے تردید فرمائی اور کئی مجالس میں بتایا کہ قصہ بے بنیاد ہے میری ایسی کوئی ملاقات شاہ فاروق سے نہیں ہوئی۔