تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 295 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 295

۲۹۱ کی نہیں ہماری جماعت کو یہ دونوں طاقتیں یعنی اجتماعیت اور انفرادیت اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں بسا اوقات اجتماعیت کمزور پڑ جاتی ہے تو اس وقت انفرادیت کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ہر جگہ فتنہ و فساد برپا ہو جاتا ہے اور مرکز سے تمہارے تعلقات منقطع ہو جاتے ہیں تو اس وقت ہر احمدی اپنی ذات ہیں مرکز احمد نیت ہونا چاہیئے اور اُسے سمجھ لینا چاہیئے کہ احمدیت کا جھنڈا اس کے ہاتھ میں ہے۔اُسے یہ خیال نہیں کرنا چاہئیے کہ ربوہ آکر وہ مشورہ کرے بلکہ اس وقت اُسے یہ سمجھے لینا چاہیے کہ وہ خود خدا تعالیٰ کا خلیفہ ہے۔اس وقت اس کا گھر ربوہ ہونا چاہیئے۔اس وقت اس کا گھر قادیان ہونا چاہیئے۔اور جس طرح خلافت کا نظام ٹوٹ جانے کے بعد صحابہ نے ایک ایک گھر کو مدینہ بنا لیا اور جب تفرقہ ہوا تو پر سلمان نے یہ عزم کر لیا کہ وہ اسلام کا جھنڈا نیچے نہ ہونے دے گا اسی طرح تم نے اجتماعیت کی حالت میں نہایت اعلی نمونہ دکھایا۔تم تھوڑے تھے تم نے اپنے پیٹ کاٹے اور معمولی آمد نوں میں سے ایک حصہ امتناعیت اسلام کے لئے دیا تم نے چندے دئے اور جماعت نے مبلغ تیار کئے۔پھر جماعت نے ان مبلغوں کو دیانت کے ساتھ بیرونی ممالک بھیجا۔جماعت نے تمہارے روپیہ کو اعلیٰ طور پر استعمال کیا یہاں تک کہ دنیا میں احمدی جماعت کی دھوم مچ گئی اور دشمنوں نے بھی اقرار کیا کہ پچھلے تیرہ سو سال میں سلمانوں نے وہ کام نہیں کیا جو اس چھوٹی سی جماعت نے ایک قلیل عرصہ میں کر دیا ہے پس تم نے اجتماعیت کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے اب تم نے انفرادیت کا بھی نمونہ دکھاتا ہے۔بہت سے احمدی گھیرا کر میرے پاس آتے ہیں تو میں انہیں یہی کہتا ہوں کہ تم میں سے ہر ایک خلیفہ کا قائمقام ہے۔تم میں سے ہر ایک دین کا مرکز ہے۔تم میں سے ہر ایک کو سمجھ لینا چاہئیے کہ احمدیت اور اسلام کا احیاء اور بقاء اس کے ذمہ ہے۔تم میں سے ہر ایک کا گھر احمدیت کا مرکز ہے جس سے احمدیت کا نور دنیا میں پھیلے گا۔تم نے اجتماعیت کا بہت اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے۔اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم انفرادیت کا نمونہ بھی کھاؤ اگر مخالفت بڑھ جائے تو تم نے مرکز سے مشورہ کئے بغیر اپنا مدعا اپنے سامنے رکھ کہ اسلام کو پھیلاتا ہے احمدیت کی اشاعت کرنا ہے تمہیں یہ عزم کر لینا چاہئیے کہ اگر تمہارے چاروں طرف دشمن کا ٹھاٹھیں گے کیا ہے مارتا ہوا سمندر بھی ہوا تو تمہاری گردن نیچے نہیں ہو گی تیم چپ نہیں ہوئے بلکہ اسلام اور احمد تیت کے پیغام کو مرتے دم تک لوگوں تک پہنچاتے پہلے جاؤ گے له خطبه جمعه فرموده ۱۵ار اگست ۱۹۵۲ء بمقام ریوه مطبوعه روز نامه افضل لاہور ۱۲۶ اگست ۱۹۵۷ء ۹۵