تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 270
۲۶۷ کو کالعدم قرار دیا ہوتا یا اس میں تبدیلی پیدا کی ہوتی ، کوئی نئی شریعت لائے ہوتے ، حضور سرورِ کائنات کی اطاعت سے آزاد ہو کر کسی نئی نبوت کا اعلان کیا ہوتا تو ہم حق بجانب تھے کہ ان کو غیر سلم اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے حالانکہ قرآن کا فیصلہ یہ ہے:۔جو لوگ پیغمبر اسلام پر ایمان لا چکے ہیں وہ ہوں یا وہ لوگ ہوں جو سیمو دی ہیں یا نصاری اور صابی ہوں کوئی ہو اور کسی گروہ بندی میں ہو لیکن کوئی بھی جو خدا پر اور اس کے آخرت کے دن پہ ایمان لایا اور اس کے اعمال بھی اچھے ہوئے تو وہ اپنے ایمان اور عمل کا اجر اپنے پروردگار سے ضرور پائے گا۔اس کے لئے نہ تو کسی طرح کا کھٹ کا ہو گا نہ کسی طرح کی غمگینی میرا خطاب حضرات احرار سے ہے کہ خدارا پاکستان میں نیا فتنہ نہ پھیلائیے۔فساد کو اللہ کریم نے قرآن حکیم میں قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیا ہے اور فتنہ و فساد سے ارضی الہی کو پاک کرنے کے لئے تلوار سے مدد لینے تک کی اجازت دے دی ہے۔آپ نے قیلیم پاکستان کی مخالفت کی اور اس وقت کی تھی جبکہ ہمیں آپ کی امداد کی اشد ضرورت تھی لیکن آپ جان کو جھ کر دشمنوں کے ہاتھ میں کھیلئے مسلمانوں کی من حیث القوم مخالفت کی۔حضرت قائد اعظم کو کا فرقرار دیا اور ان کو طرح طرح کی گالیاں دیں ہم نے یہ سب کچھ سنا اور سہما کیونکہ اس وقت ہمارا دشمن قوی تھا اور ہم میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ ہم اپنوں کا مقابلہ کرتے لیکن آپ کو اپنے عزائم میں شکست ہوئی اور خدا کے فضل و کرم سے پاکستان معرض وجود میں آگیا۔اب نہیں ایک عظیم سلطنت کی بنیادوں کو تسلیم کرتا ہے۔اسلام کے تمام فرقے اسلام کے نام در حد ہیں۔آپ شیرازہ ملت کو پارہ پارہ کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور نہ لگائیے۔مسلم لیگ اسلامی وحدت کی علمبردار ہے اس کو اللہ کریم نے اتنی طاقت بخشی ہے کہ آپ کے ان خطرناک ہتھکنڈوں کو یکسر نا کام بنادے۔ہاں اگر آپ صدق دل سے مرزائیوں کو مسلمانوں کے لئے ایک فی العظیم کھتے ہیں تو آپ تبلیغ فرمائیں وعظ کریں، اعلیٰ اخلاق پیش کریں تا کہ نئی پود مرزائیوں کے چنگل میں نہ پھنسے اور پرانے مرزائی اپنے عقیدہ کو خیرباد کہہ کر آپ کی صفوں میں آملیں۔آپ اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کر دیں تاکہ ہند و عیسائی اور دوسری خارج از اسلام جماعتیں اسلام کی لذتوں سے سرشار ہو کر مسلمان ہو جائیں۔