تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 269 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 269

۲۶۶ وہی سلوک ہو گا جو ہندوؤں سے۔اور ہند و پاکستان میں دو کروڑ ہیں۔یہ دو کروڑ ہند و کیا پانچ کروڑ مسلمانوں کو زندہ رہنے دے گا ؟ کیا یہ دو کروڑ ہندو مسلمانوں کا اپنے میں سے علیحدہ کئے ہوئے فرقہ پر ہوتا ہوا ظلم دیکھ کر اپنے آپ کو محفوظ سمجھے گا ؟ کیا وہ اس خدشہ پر ہی آفت نہ لے آئے گا۔خدارا ذرا تو سوچئے کہ آیا آپ چند لاکھ مرزائیوں پر ظلم کر کے پاکستان کے وجود کو خطرے میں تو نہیں ڈال رہے ؟ تازہ خواہی داشتن گر داخھائے سینہ را گا ہے گا ہے بازخواں ایں قصہ پارینہ را “۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ مرزائی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ان کا ایمان ہے کہ خدا ایک ہے اور رسول اکرم خدا کے آخری نبی ہیں۔نماز قائم کرتے ہیں وہی نماز جس کی حقیقت ہم لوگوں نے کھو دی ہے۔زکواۃ ادا کرتے ہیں (جس کا ہم میں اخلاص باقی نہیں رہا) حج کرتے ہیں، ہاں وہی جس کے کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ہمارے اور ان کے عقیدہ میں صرف لفظ نبی کا اختلاف ہے۔وہ مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں ایسا نبی کہ جس کی نبوت رسول اکرم کی غلامی کی رہین منت ہے ہمیں ان کے اس عقیدہ سے ایک بنیادی اختلاف ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ نبی کا لفظ سوائے رسول خدا کے اور کسی پر استعمال نہیں ہو سکتا۔وہی نبی آخر الزماں نہیں ان کے بعد نبوت کے دروازے ہمیشہ کے لئے مسدود ہو گئے۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا محض عقیدہ کے اس اختلاف پر ہم ان کو خارج انہ اسلام قرار دے سکتے ہیں؟ مسلمانوں کے اِس وقت بہتر فرقے ہیں ان میں سے ایسے بھی ہیں جو قرآن کے دن پاروں کو نہیں مانتے بعض ایسے ہیں جو اسلام کے بنیادی ستونوں میں سے چند ایک کو کالعدم قرار دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ مسلمان ہیں اور ہماری حکومت میں اور سوسائٹی میں ایک امتیازی درجہ حاصل کئے ہوئے ہیں اور ہمیں بجا طور پر اُن سے کوئی پرخاش نہیں۔اگر ایک آدمی اپنے آپ کو مسلمان کہے تو از روسے قرآن پاک ہم اس کو خارج از اسلام نہیں کر سکتے ہمارے پاس کوئی ایسی طاقت نہیں جس کے تحت ہم ان کو کا فربنا سکیں۔مذہب کا تعلق ول سے ہے اور دل کے بھید سوائے حق تعالیٰ کے اور کسی کو معلوم نہیں ہو سکتے۔ہاں اگر مرزا غلام محمد صاحب نے اسلام سے ماوری دعوائی نبوت کیا ہوتا ، قرآن سے انکار کیا ہوتا، کسی آیت قرآنی