تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 267 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 267

۲۹۴ وہ قرآن کریم کو منشوخ قرار دیتے ہیں اور بہاء اللہ کو خدا تعالیٰ کا منظر قرار دیتے ہیں مگر وہ تبلیغ کر رہے ہیں اور پاکستان ان کو نہیں روکتا۔پارٹیشن کے بعد بھی کئی لوگ عیسائی ہوئے ہیں ان کو گورنمنٹ نہیں روکتی اور نہ روک سکتی ہے۔خود ہم بھی تو ہر ملک میں اسلام کے لئے تبلیغ کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔- اگر مرزائی اپنے آپ کو مسلمان کہتے رہے تو ہمارا ان کو اقلیت قرار دینے سے بنتا ہی کیا ہے یا پھر تمہیں یہ قانون بنانا پڑے گا کہ کوئی شخص مولویوں کی اجازت کے بغیر اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتا اور پھر اگر میں جھگڑ ا جاری رہا تو اس بات کی کون ضمانت دے سکتا ہے کہ آئندہ سنیوں اور شیعوں اور حنفیوں اور دیوبندیوں کے خلاف ایسے ہی الزام نہیں لگائے جائیں گے اور ایسی ہی شورشی نہیں کی جائے گی اور پاکستان میں فتنہ کی خلیج وسیع سے وسیع تر نہیں کی بجائے گی ؟ ۳۔پھر ایک یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر مرزائی اپنے آپ کو مسلمان کہنے پر اصرار کرتے رہے اور مسلمانوں کے دین پر چلتے رہے تو آپ کو گورنر جنرل سے ایک ایسا آرڈی نفس نافذ کرانا پڑے گا کہ جس کی رو سے کوئی مزائی اپنا نام مسلمانوں کا سانہ رکھے نہ ہی کلمہ پڑھے اگر پڑھے تو اس کی زبان گڈی سے نکال لی جائے۔قرآن کو ہاتھ لگائے تو ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔اور اگر مسلمانوں کے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے بلکہ مسلمانوں کی طرح نماز بھی پڑھے تو اس کو سخت سزادی جائے یا اور کوئی اسلامی کام کرے تو اس کو ازروئے قانون ماخوذ کیا جائے۔ظاہر ہے کہ کوئی مہذب حکومت ایسا قانون نافذ نہیں کر سکتی۔اور جب یہ حقیقت ہے تو پھر خدا را سوچیں کہ ہم کہاں اور کس طرف جا رہے ہیں۔آخر دنیا ہمیں کیا کہے گی ؟ ۴۔اس کے علاوہ ہمیں ایک قربانی اور دینی پڑے گی اور وہ ہے کشمیر کا ہندوستان سے الحاق۔ضلع گورداسپور کی قبل تقسیم سلم اور غیرسلم آبادی کا تناسب کچھ اس قسم کا تھاکہ سلمان نصف سے زیادہ تھے اور غیرمسلم جن میں ہندو، سکھ اور عیسائی وغیرہ سب شامل تھے بل بلا کر مسلمانوں کے براہر نہ تھے۔اس لحاظ سے یہ ضلع بحیثیت مجموعی مسلم اکثریت کا ضلع تھا۔اس ضلع میں مرزائی کثرت سے آباد تھے ان کی آبادی کو الگ کر کے شمار کیا جاتا تو پھر مسلمان نصف سے کم رہ جاتے تھے اس صورت میں ر ضلع غیر مسلم اکثریت کا ضلع ہو کر رہ جاتا تھا۔چونکہ کانگرس کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ ملانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھی اور اس راہ میں گورداس پور کا ضلع بری طرح حائل تھا کیونکہ