تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 265
یہ بات واضح نہ کر سکا اور دونوں باتیں آپس میں خلط ملط ہو گئیں۔اے ۲۷-۲۶ جولائی ۱۹۵۲ء کو لاہور میں پنجاب پنجاب سلم لیگ کونسل کا اجلاس لاہور اسلامی کونسل کا ایک خصوصی اجلاس منعقد لیگ ہوا جس میں کونسل کے بعض نمبروں کی ان قراردادوں کو زیر بحث لایا گیا جن میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے۔سے اکین پنجاب سلم لیگ کی خدمت میں چند معروضنا ہے عمر جاب است مینی ماحب ان اسے کے اصغر بھٹی بی۔ایل ایل بی ایڈووکیٹ سرگودہا کی طرف سے بعنوان اراکین پنجاب سلم لیگ کی خدمت میں چند معروضا" ایک حقیقت افروز رسالہ شائع ہوا جس میں مطالبہ اقلیت کی حقیقت واضح کی گئی تھی۔اس رسالہ کے دو اقتباسات ذیل میں نقل کئے جاتے ہیں :- ا۔" یکی تو ایک سیدھا سادھا مسلمان ہوں قرآن پاک نے اسلامی زندگی کی بنیا دو چار باتوں پر رکھی ہے۔ایمان - عمل صالح - توصیت حق - توصیه مبر میں نہ قادیانی مرزائی ہوں اور نہ لا ہوری۔نہ میرا شیعہ فرقہ سے تعلق ہے اور نہ ہی کسی اور فرقہ سے یکی محض مسلمان ہوں جس کا مسلک یہ ہونا چاہیے کہ وہ حتی کے اعلان میں کسی سے نہ ڈرے نہ تو دنیا کا کوئی لالچ اس پر غالب آئے اور نہ کوئی خوف مسلمان اگر طبع بھی رکھے توصرف خدا سے اور ڈرے بھی تو صرف خدا سے۔پاکستان نوزائیدہ بچہ ہے جس کو معرض وجود میں آئے ابھی صرف پانچ سال ہوئے ہیں۔عمار ملت حضرت قائد اعظم نے ہمیں اپنے اندر اتحاد یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم کی صلاحیتیں پیدا کرنے کی ہدایت فرمائی تھی اور حکم دیا تھا کہ فرقہ پرستی کا چیفہ اتار کر اسلام کے نام پر متحد ہیں تاکہ ہم عالم اسلام اور خود اپنے لئے ایک طاقت بن سکیں لیکن ہو یہ رہا ہے کہ وہی سیاسی پارٹی جو ے ترجمہ سول اینڈ ملٹری گزٹ ۲۵ جولائی ۱۹۵۲ء ص رمتن اور وضاحتی مکتوب شامل ضمیمہ ہے) سے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ر پورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ۶۱۹۵۳