تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 259 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 259

۲۵۶ ان کی مخالفت کے لئے مگر ہر حال اس مغربیت کی مرض کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے اگر کسی نہ کسی رنگ میں ملا علی قاری اور مولانا عبد الحی فرنگی محلی کی کتب کو بھی ضبط کر لیا جائے تو یہ ایک بڑی دینی خدمت ہوگی اور اس سے احرار اسلام جیسے مجاہدین کو بڑی تقویت پہنچے گی۔مگر ایک اور بات بڑی مشکل ہے اس کا علاج ذرا جان جوکھوں کا کام ہے مگر احرار اسلام ارادہ کر لیں تو وہ بھی کوئی ایسی بڑی بات نہیں اور وہ یہ کہ ہمارے ملک میں پیروں فقیروں کا بہت زور ہے اور یہ لوگ محی الدین صاحب ابن عربی معین الدین صاحب پشتی اور خواجہ میر درد صاحب کے ذرا ضرورت سے زیادہ معتقد ہوتے ہیں اور ان بزرگوں نے بھی اپنی کتب میں ویسی ہی باتیں لکھی ہوئی ہیں جیسے مرزائی کہتے ہیں حضرت معین الدین صاحب چشتی نے تو اپنے آپ کو مسیح تک کر دیا ہے اور اپنے اوپر جبرائیل کے اترنے اور ان پر وحی نازل کرنے تک کا دعوی کر دیا ہے۔ان حوالوں سے مرزائیوں کو بہت تقویت ملتی ہے اور ان حوالوں کو سُن کر صوفیوں کے شاگرد اور معتقد چلا اٹھتے ہیں کہ ان بزرگوں کو کا فرکمیں یا مرزائیوں کو مسلمان اور پھر گھبرا کر کہ اٹھتے ہیں کہ ان بزرگوں کو تو کا فرکہتا مشکل ہے۔ان مرزائیوں کو ہی مسلمان سمجھ لیتے ہیں۔اب اس نشتر کا ازالہ یہی ہے کہ کم سے کم مرزائی فقہ کے استیصال تک ان بزرگوں کی کتب کو پاکستان میں مضبوط کر لیا جائے اور داخلہ ممنوع قرار دیا جائے تاکہ مرزائی ان سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔اور تمام مساجد میں علماء یہ خطبہ پڑھیں کہ جن ضروری مصالح کی وجہ سے ان کتب کا پڑھنا ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔کم سے کم عقل کی مرض میں مبتلا ان کو ہر گز نہ دیکھیں۔اس وقت مسلمانوں کی تو وہی حالت ہے کہ ح اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے چند سال ہوئے ایک شخص نے شیخ شلتوت پر وفیسر جامعہ ازہرہ صدر مجلس افتاد سے پوچھا کہ قرآن کی رو سے بیح زندہ ہیں یا فوت ہوگئے ؟ تو انہوں نے صاف کر دیا کہ قرآن کی رو سے مردہ ہیں۔ان کی تو تہ جب اس طرف پھرا ئی گئی کہ مولانا علماء ہند تو متوفيك کے معنی موت کے نہیں کرتے تو انہوں نے اس اشارہ کو بھی نہ سمجھا اور صاف لکھ دیا کہ غیر عرب جو عربی نہیں جانتے دیہ بہتک کی ہمارے علماء کی ) جو چاہیں معنے کریں ہم عرب لوگ جن کی مادری زبان عربی ہے متوفیات کے معنے وفات دینے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔اس پر بھی حسب فتوی پوچھنے والے نے کہا کہ اس فتوے سے