تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 258
۲۵۵ جائیں گے لیکن اپنے ملک کو پاک کرنا یہاں کے علماء کا کام ہے۔باہر والے جانیں ان کا کام بجانے۔موجودہ موقعہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہم سجھتے ہیںکہ علماء کو پوری طرح گھر کی صفائی کر دینی چاہئیے مثلاً مرزائی لوگ کہتے ہیں کہ ختم نبوت کے متعلق ہمارا وہی عقیدہ ہے جو مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی کا تھا جو دیوبند کے بانی تھے اور مولانا احتشام الحق صاحب اور مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کے روحانی باپ تھے اور اِس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی کتاب تحذیر الناس میں ایسے فقرات موجود ہیں جن کو پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مرزائی لکھ رہا ہے۔جب تک یہ کتاب موجود ہے مرزائیوں کو دوسرے مسلمانوں پر غلبہ رہے گا اور موجودہ جد و جہد نا کام رہے گی۔اس لئے ہمارے نزدیک وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے احرار اسلام اور مولانا احتشام الحق صاحب کو اس بات پر راضی ہو جانا چاہیئے که نانوتوی صاحب کی یہ کتاب اور دوسری کتابیں جن میں اس قسم کا ذکر ہے پاکستان میں ممنوع الاشاعت قرار دی جائیں۔بے شک مولانا بخاری اور مولانا احتشام الحق کے لئے یہ گھونٹ پینا تلخ ہو گا لیکن اِس بڑے کام کے پورا کرنے کے لئے جو انہوں نے شروع کیا ہے یہ تلخ گھونٹ پیا کوئی ایسا بڑا کارنامہ بھی نہیں۔مرزائیوں کو کافر قرار دیا گیا ہے تو ان علماء سے بھی گلی برات کا اظہار کیا جائے جنہوں نے مرزائی عقائد کی تائید کی ہے اور نا دانستہ ان کی اشاعت میں محمد ثابت ہوئے ہیں۔یہ پتھر تو سخت ہے مگر چاٹنا ہی پڑے گا ورنہ وہ مغرب زدہ مسلمان جو ہر بات کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کی مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں وہ کمزور ایمان والے اپنی عقل کے برتے پر شور مچائیں گے کہ جب دیوبندی علماء یہی کہتے پہلے آئے ہیں جو یہ مرزائی کہتے ہیں تو ان پر یہ فتوی کیوں نہیں لگایا جاتا۔دلوں میں ان لوگوں کی بے شک عربت کی بجائے مگر ظاہر میں برأت ضرور ظاہر کی جائے ورنہ یہ ہم ناکام رہے گی۔ہاں ایک اور شکل ہے اور وہ یہ کہ مخالص حنفی طبقہ کے علماء نے بھی کچھ اسی قسم کی حرکات کی ہیں۔ملا علی قاری جن کو عقائد کے بیان میں امام ابوحنیفہ صاحب سے کچھ ہی کم مرتبہ دیا جاتا ہے اور مولانا عبدالحی صاحب فرنگی محلی نے جو احسان ہند کے لئے گو یا شیخ المشائخ کا رتبہ رکھتے ہیں اسی قسم کے الفاظ اپنی کتابوں میں لکھ دئے ہیں جو مرزائی کہتے ہیں اور مرزائی ان کتب کو دکھا دکھا کر کہتے ہیں کہ یہ لوگ ان عقیدوں کے باوجود بزرگ اور امام اور ہم کافر و مرتد ؟ آخر یہ فرق کیوں ؟ اور پیر نے وہ مسلمان اس دلیل کو سن کر متاثر ہو جاتے ہیں حالانکہ عقل انسان کو علماء کی تائید کے لئے ملی ہے نہ کہ