تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 254
۲۵۱ ہم سے بند ہو کر آپ کے زیر نگیں آئیں ہم نے تو ان کے مصائب پر بھی آپ کو متوجہ نہیں کیا اور لیس مرا بخیر تو امید نیست بد مرساں " سے احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مطالبہ احرار کا مطالبہ اقلیت ارشیان پاکستان پر پاکستان میں انانیت کے مشہور آگئی ویرات (۲۴ اگست (۱۹۵۲ء) میں ایک شیعہ دوست کا حسب ذیل مکتوب شائع ہوا :- یک اتفاق یکن السلمین کا ہمیشہ حامی رہا ہوں اور ہوں لیکن صرف معاملات معاشرت اور حدود سیاست تک۔ہمارا مذہبی اتحاد نہ کسی فرقہ سے ممکن ہے نہ آج تک ہو سکا۔جب ہمارے اصول دین ہی کسی سے متحد نہیں تو دینی اتحاد کے کوئی معنی نہیں۔اس لئے گزارش ہے حدود پاکستان میں جو خلفشار سواد اعظم اور جماعت قادیانیہ کے درمیان اس وقت نظر آرہا ہے اور اہل شگفت زیم اکثریت میں قادیانیوں پر حملے کر رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے یہ ان کی پرانی روایات ہیں جن کا دہرانا اگر فرض نہیں تو سیرت شیخین کے لحاظ سے سنت ضرور ہوگا سواد اعظم نے جب جہاں کسی کو کمزور دیکھا بڑھ گئے۔دبا لیا تو شیر ورنہ میدان چھوڑ بھاگے۔قادیانی جماعت کوئی اجنبی جماعت نہیں سواد اعظم کی ایک شاخ، عقائد و اعمال میں ہم خیال توحید - رسالت - امامت قیامت میں سارے معتقدات قریب قریب یکساں ، عبادات ملتے جلتے ہیں فرقہ حقہ امامیہ کو نہ ان سے واسطہ نہ ان سے مطلب۔پھر قادیانیوں کے دیس اور بھی یہی ہیں جتنا مال اٹھایا اسی منڈی سے۔خدا کا شکر ہے ہماری جماعت پر نہ کسی فرقہ باطلہ کا اثر اب تک ہو سکا نہ آئندہ بتصدق ائمہ المہا علیہم السلام اندیشہ ہے۔ران حالات میں علماء شیعہ کا ختم نبوت کے نام پر ان برادران یوسف سے تعاون عمل کیسا ؟ کیا اطمینان ہو گیا ؟ یہ لوگ ہمارے دوست بن گئے۔ان کے دلوں سے فرقہ شیعہ کی عداوت دیرینہ شکل گئی ؟ حکومت بنی امیہ و بنی عباس کے روایات دہرائے نہیں جا سکتے ؟ قادیانیوں پر گھر کے فتوے شائع کرنے والے ہم کو مسلمان سمجھنے لگے ؟ انہوں نے اپنے سابقہ فتووں سے تو یہ کر لی ؟ ان کی غلطی نه رساله مولوی دہلی ذوالحج ۱۳۷۱ھ مطابق ستمبر ۱۹۵۲ء بحوالہ روز نامہ الفضل، لاہور ۱۹۔ستمبر ۱۹۵۲ء مث ؟