تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 253
۲۵۰ کرتے وقت یہی تو اس سے کہلواتے ہیں یکں دم بخود رہ گیا۔کہا شرما جی اس میں ایک بات یہ ہے کہ وہ ہمارے رسول کو خاتم الانبیاء نہیں مانتے۔انہوں نے بڑے زور کا قہقہہ لگایا اور کہا بھلا اس فقرے میں یہ بات نہیں آتی اسلام اس کا مذہب ہے اور اس سے ایک قدم ادھر اُدھر ہونا حرام اور موجب شقاوت خیال کرتی ہے کیا خاتم الانبیاء کی تصدیق کے لئے یہ کافی نہیں ہے اور جناب اِس فقرے میں کیا خاتم الانبیاء کی تصدیق نہیں ہے " ہم لوگ سچے دلی سے سلمان ہیں اور ہر ایک ایسی بات کو جو ایک سچے مسلمان کے لئے ضروری ہے مانتے ہیں اور ہر وہ بات جس کا رد کرنا ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے اسے رو کرتے ہیں اب کی بالکل خاموش تھا۔کہنے لگے کہ اگر یکی مسلمان ہونا چاہوں تو اتنی بات کہ دینی مسلمان ہونے کے لئے کافی سمجھتا ہوں۔پھر قہقہ لگایا اور کہا دیکھیئے اب کیا فرمائیں گے آپ جناب مولوی صاحب ! احمدیوں کے امام کے بیانات پر جو اسی پر بچہ کے صفحہ ۷، ۸ پر درج ہیں۔انہوں نے جگہ اقرار کیا ہے کہ آپ کے رسول خاتم الانبیاء ہیں اور کرتی دیکھئے، مجھ کو خدا کی عزت و جلال کی قسم کہ یکی ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے رسول حضرت محمدمصطفے صلی اللہ علیہ وسلم تمام رسولوں سے افضل اور خاتم الانبیاء ہیں یا ایک غیر مسلم کو سمجھانے کے لئے میرے پاس کیا تھا ؟ پسینہ آگیا کہ اب یہ میرے سلمان ہونے اور اسلام کے گن گانے پرہمیشہ تقیہ ہی لگائیں گے پھر نہیں کیونکر اسلام کی رواداری پر بیٹ کر سکوں گا۔شرما جی کو تاریخ اسلام پڑھنے کی کیا ضرورت ان کے تو آنکھوں کے سامنے مملکت اسلامی پاکستان کی جیتی جاگتی تاریخ موجود ہے۔ہمارے شور ما بھائیو اگر اس کی تہر میں کوئی سیاسی جوڑ توڑ تھا تو ویسے ہی داؤ پیچ کرتے، ہماری گردنیں تو یہاں کے غیر مسلموں کے سامنے تم نہ ہوتیں اور ہم ان کی زبان سے اسلام رسوا ہوتا نہ دیکھتے۔یہ ہیں ہمارے ابتکار اور یہ ہیں ہماری مشکلات جن سے ہم اور بایوس و ہر اس مند ہو جاتے ہیں اور اسے پاکستانی بھائیو آپ کی ان باتوں کا کوئی ڈیفنس نہیں کر سکتے۔ہم نے آپ کے لئے اپنی ساری آسودگیاں تقریبا ہی کیں۔ہم شکل پر صابر و ضابط رہے۔آپ سے کوئی مدد نہیں چاہتی۔آپ سے کسی ہمدردی کی توقع نہیں رکھی۔جو بچے، بیویاں، مائیں ، بہنیں