تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 252 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 252

۲۴۹ نہ یہی موشگافیاں فتوے سازوں کو مبارک۔اِس کاغذی مولوی کو اس میں دخل نہیں۔لیکن یہاں اپنے غیر مسلم بھائیوں سے موقعہ یہ موقعہ اسلام کی رواداریوں اور خوبیوں کا بقدر استطاعت ذکر کرتا رہتا تھا اور چاہتا تھا وہ سلمانوں کو چاہے برا کہیں لیکن اسلام کی خوبیوں کے قائل ہو جائیں۔ان میں سے ایک بھائی میر نے پچڑانے کو کہیں سے افضل کا خاتم النبیین نمیرے اُٹھا لائے اور مجھ سے فرمایا مولوی جی ذرا اس کا پہلا پیچ پڑھنا۔یہ آپ کے دکھانے کو لایا ہوں۔دیکھئے اس میں لکھا ہے :۔ہم بچے مسلمان ہیں جماعت احمدیہ کسی نئے مذہب کی پابند نہیں بلکہ اسلام اس کا مذہیب ہے اور اس سے ایک قدم رادھر اُدھر ہونا وہ حرام اور موجب شقاوت خیال کرتی ہے اس کا نیا نام اس کے نئے مذہب پر دلالت نہیں کرتا بلکہ اس کی صرف یہ غرض ہے کہ یہ جماعت ان دوسرے لوگوں سے جو اسی طرح اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں ممتاز حیثیت سے دنیا میں پیش ہو سکے۔غرض ہم لوگ پیچھے دل سے مسلمان ہیں اور ہر ایک ایسی بات کو جس کا ماننا ایک پیچھے مسلمان کے لئے ضروری ہے مانتے ہیں اور ہر وہ بات جس کا رد کرنا ایک سچے مسلمان کے لئے ضروری ہے اسے رد کرتے ہیں اور وہ شخص جو با وجود تمام صداقتوں کی تصدیق کرنے کے اور اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو ماننے کے ہم پر گھر کا الزام لگاتا ہے اور کسی نئے مذہب کا مانے والا قرار دیتا ہے وہ ہم پر ظلم کرتا ہے او خدا تعالیٰ کے حضور میں جواب دہ ہے۔انسان اپنے منہ کی بات سے پکڑا جاتا ہے نہ کہ اپنے دل کے خیال پر۔کون کہہ سکتا ہے کہ کسی کے دل میں کیا ہے ؟ جو شخص کسی دوسرے پر الزام لگاتا ہے کہ جو کچھ یہ منہ سے کہتا ہے وہ اس کے دل میں نہیں ہے وہ خدائی کا دعوی کرتا ہے کیونکہ دلوں کا حال جاننے والا صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں کہ سکتا کہ کسی کے دل میں کیا ہے " ( دعوۃ الا شیر صفحہ ۱ ، ۲ ) پھر فرمانے لگے کہ مولوی جی این دستو۔اگر یہی بات پوری کی پوری میں کہوں تو کیا آپ مجھے مسلمان نہیں کہیں گے اور مجھے اپنا دینی بھائی نہیں جائیں گے۔اس کے بعد بھی اگر مجھ پر اتیا چار ہو اور یہ کیا جائے کہ تم مسلمان نہیں ہو تو کیا یہی اسلام کی تعلیم ہے؟ اور میں نے سنا ہے کہ غیرمسلم کو مسلمان ے پر چھہ ۲۷ جولائی ۶۱۹۵۲ کے تالیف حضرت خلیفة أسبح الثاني الصلح الموعود (۱۹۲۳ء)