تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 251
۲۴۸ اسے دوسروں سے مانگنا پڑا۔شتی سنتی سے لڑتا ہے۔شیوہ سستی سے لڑتا ہے اب مرزائیوں اور سنیوں کا مقابلہ ہے اور مقابلہ بھی ایسا سخت کہ اب مرزائی مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم اقلیت اور کافروں سے بھی بدتو۔یہ کاغذی مولوی فتوی دینے کے اہل نہ اس نے فتوی بازی کو اپنے صفحات میں جگہ دی۔اس کو یہ دُکھ ہے کہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے والے پاکستانی غیر مسلموں کو کیا منہ دکھائیں گے وغیر مسلم کہتے ہیں کہ وہ کبھی مسلم حکومت میں بے خوف اور با حرارت نہیں رہ سکتے ہیں ہوگا اسلام صلح گل اور اسلام قرآن میں ہو تو ہو مسلمانوں میں کم از کم نہیں ہے۔تمہاری کتنی ہی چھوٹی بڑی حکومتوں میں ایک پاکستان ہی کا تو دعوی تھا کہ وہ اسلامی حکومت ہے اور اس کی بنیاد ہی اس پر رکھی گئی اور تم ناسمجھ بھارت کے مسلمانوں نے اس اسلامی حکومت کے لئے اپنی زندگی خراب کر لی۔اچھا احمدی ہم ہی جیسے غیرمسلم سہی تو کیا اسلام کہتا ہے کہ اپنے غیر مسلم محکوموں کے جان لیوا بن جاؤ۔ان کی عزتیں خاک میں ملاؤ۔ان سے نوکریاں واپس لے اور پرستانہ کرے اگر ان کو پو را بنگال ، آسام اور پورا پنجاب مل جاتا تو ہمارا کیا بناتے بتائیے ہمارے پاس کیا جواب ہے ؟ ہم شرم سے بھی گردنیں کر لیتے ہیں وہ توئیکی کہتے ہیں کہ ہم احراریوں کو لیگیوں سے بدرجہا بہتر سمجھتے تھے لیکن یہ بھی حکومت ملتے ہی ننگے ہوئے اور ہند وسلم بھائی بھائی کہتے نہ تھکنے والے آج مسلم مسلم قصائی قصائی بن رہے ہیں ؟ ایک تو ہم پر فاقوں کی بھر مار دوسرے بے عزت اور بے کار اس پر ان طعنوں کی بوچھاڑ ہمارا ہی دل گروہ ہے کہ یہ سب سہہ رہے ہیں۔یا نعوذ بالله من شرور انفسنا کبھی کبھی تو ہمارے دل میں وسوسہ اٹھنے لگتا ہے کہ ہمارے غیر مسلم بھائی جومسلمانوں کے عمل سے اسلام کو برا سجھتے ہیں کہیں یہ سچ تو نہیں ہے۔شیعہ ، سنیوں ، وہابی اور بدعتیوں میں پہلے ہی یہ انتشار کیا کم تھا کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہ پڑھتے تھے۔ایک دوسرے کے ہاں شادی نہ کرتے تھے اور یہی بیو پار قادیانیوں سے بھی تھا۔یہ افتراق نجی تھا منظر عام پر نہ آتا تھا کہ ایسی مگر بازی ہوتی تھی کہ غیر مسلموں کو طعنہ زہنی اور نشتر چھونے کا موقعہ ملتا۔آج پاکستانیوں نے اس کو بھی اجاگر کر کے اور ہمارا جینا دو بھر کر دیا۔سے نقل مطابق اصل پر سا ہو گا جس کے معنی عذر خواہی اور ماتم بپرسی کرنے کے ہیں۔(فرہنگ آصفیہ)