تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 13
کے خطوط کا جواب لکھنا میرا کام تھا یفضل خد مسلسل دفتر ڈاک کا کام کرتا رہا یہاں تک کہ ۱۹۲۷ء میں بموجب قواعد ریٹائر ہو گیا۔بحمد اللہ اب حضور کے قدموں میں پڑا ہوں اور دعا کرتا ہوں کا من دعا ہائے ہر وبار تو اسے ابر بہاری نے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے آپ کی وفات پر لکھا :- حضرت عرفانی کا نوٹ ، جہاں تک میر اعلم ہے کہیں سے سعادت مند اور زاہد تھے ہر دیکھنے میر بچپن والے کو اُن کے پہرہ پر نور نظر آنا تھا۔وہ رمضان کا مہینہ خصوصیت سے عبادت میں گزارتے اور اعتکاف کرتے تھے اور تہجد گزار تھے مجھے بارہا اُن کے ساتھ تجد میں شرکت اور سحری میں شریک طعام ہونے کا موقعہ ملا۔اُن کے چہرے پر قسم کھیلتا تھا میں نے کبھی اُن کو غصہ کی حالت میں نہیں پایا۔وہ اپنے گھر کے کام خود اپنے ہاتھ سے کرتے تھے اور حضور علیہ السلاة والسلام کے ارشاد خَيْرُ كُم خَيرُكُمْ لا ملا ہے پر جوانی سے بڑھاپے تک مخلصانہ عامل رہے۔اولاد کی تربیت اور اولاد پر شفقت کا بھی وہ ایک خاص نمونہ تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام اور آپ کے اہلبیت سے انہیں محبت و اخلاص کا نہایت بلند مقام حاصل تھا۔وہ تو کل علی اللہ کا ایک خاص درجہ رکھتے تھے۔ان کی زندگی کے ابتدائی ایام شہزادوں کی طرح سے گزرے اس لئے کہ اُن کے خاندان کے فیض یافتہ لوگ بڑے اخلاص سے خدمت کرتے تھے لیکن احمدی ہو جانے کے بعد ہی در اصل اُن کے توکل کے مقام کا پتہ لگا وہ نہایت قارنع انسان تھے اور اپنے فرض کو نہایت محنت اور جفاکشی سے ادا کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا قرب انہیں آپ کے گونہ پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت سے حاصل تھا اس لئے کہ آپ صیغہ ڈاک میں کام کرتے تھے یہ سمجھے ضرت پیر صاحب کا قد لمبا تھا، آپ کی زندگی فروتنی کسر نفسی اور عجز و انکسار دیگر خصائل و شمائل کی مخستم تصویر تھی۔فرشتہ صفت بزرگ تھے۔خطہ نہایت پاکیزہ اور بہت عمدہ تھا۔اُردو اور فارسی دونوں زبانوں میں بے تکلف بات کر لیتے تھے طبیعت پر غور و تشکر کا رنگ غالب تھا۔تلخیص روایات صحابہ چندے (غیر مطبوعہ) صراحت : سے ابن ماجہ (ابواب النکاح باب حسن معاشرة النساء ) ص۱۲۳ الفضل ۲۸ صلح ۱۳۳۰ ش / ۲۸ جنوری ۱۹۵۱ء ص :