تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 12
١٠ دروازہ مسجد مبارک کے دہنی طرف آب تک موجود ہے۔حاضرین مہمانوں کی تعداد اتنی تھی کہ بیت الفکر میں گنجائش ہو گئی۔مجھے یاد ہے کہ صاجزادہ بشیر احمد اول مولوی رحیم بخش صاحب کی گود میں تھے جس وقت کہ حجام نے سر کے بال اُتارے۔۔۔عقیقہ کے بعد ایک دو دن مہمان ٹھہرے۔پانی کا وہی عالم تھا اگر چه بارش بند ہو گئی تھی لیکن راستہ پانی سے لبریز تھا۔بیگہ پر اسباب لاد کر احباب پا پیادہ روانہ ہوئے حضور نے پلاؤ کی دیگ ساتھ کر دی تھی مجھے یاد ہے کہ بٹالہ کے راستے میں بعض جگہ پانی کمر تنک پہنچ جاتا تھا۔یکہ کے پہلے پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔اسی سال میں ہم بٹالہ کے اسٹیشن پر پہنچ گئے۔اسٹیشن بٹالہ پورہ حضرت میر ناصر نواب صاحب رحمتہ اللہ علیہ دو دن سے پانی کی وجہ سے رُکے ہوئے تھے۔جب پر پہنچے حضرت میر صاحب کی رخصت بھی ختم ہو چکی تھی، وہ بھی ہمارے ساتھ ریل پر واپس ماشین ہو گئے۔کچھ عرصہ بعد حضرت صاحب معہ اہل بیت لدھیانہ تشریف لے گئے اور ہمارے مکان کے بالکل متصل ایک حویلی میں فروکش ہوئے اور سبعیت کا اعلان کیا" اس کے کچھ عرصہ بعد محمد اللہ تعالیٰ ۱۸۹۳ء کو ئیں مع اہل و عیال ہجرت کر کے قادیان آرہا حضور نے اپنے رہائش ہی کے مکانوں میں جگہ دی۔۔۔۔ایک روز حضور نے مجھے فرمایا کہ انسپکٹر مدارس آیا ہوا ہے اس سے کہو کہ قادیان کے سکول میں تم کو رکھ لے۔۔۔۔میں نے محض حضور کے ارشاد کی تعمیل میں انسپکڑ سے بل کہ کیا کہ آپ مجھے قادیان کے سکول میں مدرسی کی آسامی دے دیں۔انہوں نے میر کی عظیم وغیرہ کا حال پوچھا اور کہا بہت اچھا میں جا کر حکم بھیج دوں گا۔اُس نے بجا کر میری تعیناتی کی باضابطہ کاروائی کی اور میں قادیان کے سکول میں مددمی ہو گیا۔" ان دنوں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز (حضرت خلیفہ ثانی - ناقل) خورد سال تھے۔حضور نے مجھے فرمایا کہ میاں کو بھی سکول لے جایا کرو لیکن حضرت صاحب کے ارشاد کے مطابق حضور کو بھی ساتھ لے جایا کرتا تھا۔“ پانچ سال کے قریب یہاں قادیان میں رہا پھر مع عیال لدھیانہ چلا گیا۔۔۔پھر ۱۹ ء کو مع اہل و عیال قادیان آیا اور فضل خدا نہیں رہا۔۱۹۰۲ء میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت اقدس کی اجازت سے محرری کے کام پر مجھے رکھ لیا لنگر اور سکول کا چندہ اور حضرت صاحب