تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 228
۲۲۵ کی صدارت میں عوامی لیگ نے ایک جلسہ کیا اور اس میں احمدیوں کو اقلیت قرار دیتے ہوئے ظفر اللہ ہیں احمدیوں کو خان کی برطرفی کا مطالعہ کیا گیا۔کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر این قدر شور و غوغا کے ساتھ احمدیوں کی مخالفت کی اس وقت کیا ضرورت تھی ؟ خیال کیا جاتا ہے کہ چند خود غرض لوگ اپنی مطلب براری کے لئے یہ تحریک چھلا کر عوام کو غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پاکستان ابھی اندرونی اور بیرونی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔مسئلہ کشمیر ابھی حل ہونے میں نہیں آتا۔افغانستان والے روز بروز دشمنی میں بڑھ رہے ہیں ان حالات میں خواہ مخواہ آپس میں انجھنے سے کیا حاصل ہوگا ؟ حصول پاکستان کی جنگ شیعہ اشتی، احمدی سبھی نے مل کر لڑی تھی۔خود قائد اعظم شیعہ تھے مگر ان کی قیادت پر کوئی اعتراض نہ اُٹھا ظفر اللہ خان احمدی ہیں لیکن قائد اعظم کے وقت سے لے کر چار سال تک ان پر کوئی اعتراض نہیں اُٹھایا گیا۔ایک صحیح العقل آدمی کے لئے اس بات کا سمجھنا ناممکن نہیں ہے کہ جو گند رناتھ جو غیر سلم تھے ان کی وزارت پر غیر مسلم ہونے کی وجہ سے اعتراض نہیں اٹھا یا گیا تو سر ظفر اشہ خان کو غیرمسلم قرار دے کر وزارت سے برطرف کرنے کی تحریک کیوں کی جارہی 14 اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ وزراء میں ظفر اللہ خان بہترین قابلیت کے مالک ہیں۔بعض دیگر وزراء کی نسبت بہت سی باتیں سنی جاتی ہیں لیکن ظفر اللہ خان کے خلاف آج تک کوئی شکایت سنتے ہیں نہیں آئی۔اہم عہدوں پر نا قابل لوگوں کے ہجوم سے پاکستان کے تباہی کی طرف جانے کا خطرہ ہے۔اندریں حالات ظفر اللہ جیسے قابل ترین شخص کو وزارت سے برطرف کرتے کا مطالبہ قوم کے لئے مہلک ہے۔ہمارا خیال ہے کہ پاکستان کی اہم ترین بھلائی کی خاطر اسی قسم کی دیوانگی اور آپس کی گوگوئیں ہیں کو بند کر دینا چا ہیے۔اسے (ترجمہ) ه هفت روزه اخبار شیئی نیک بنگال بحوالہ روز نامہ الفضل" لاہور ۳۰ اگست ۱۹۵۲ء مطابق نظیر ۳۳۱ ابش مش