تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 11
9 نہ تھی جس سے یہ ظاہر ہو سکتا کہ یہ دولہا اور یہ اُس کی برات ہے؟" حضور مع رفقاء شاید ۱۰-۱۵ منٹ اور حیا نہ پلیٹ فارم پر کھڑے رہے پھر گاڑی پر سوار ہو کر دہلی درمیانہ روانہ ہو گئے۔واپسی کے وقت پھر لدھیانہ سٹیشن پر گاڑی ٹھیری۔احباب سے ملاقات کی میرے والد صاحب نے پھلور کے دوٹکٹ پہلے سے لے لئے تھے۔میرے بھائی منظور محمد صاحب کو ساتھ لے کر حضور کی گاڑی کے ڈبہ میں سوار ہو گئے میں ساتھ نہیں گیا۔پھلور لدھیانہ سے ۵ میل ہے اور انجن بدلتا ہے۔گاڑی نصف گھنٹہ وہاں ٹھیری۔یہ میرے والد صاحب کا ولی اخلاص تھا جو اس تھوڑے عرصہ کی طاقات کو غنیمت سمجھا۔یہ والد صاحب کی حضرت صاحب سے آخری ملاقات تھی کیونکہ اس کے بعد مجھ کو تشریف لے گئے۔واپسی کے وقت یہ استہ میں بیمار ہو گئے اور لدھیانہ آگر چند روز بعد 19 ربیع الاول المجری کو وفات پا گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔والد صاحب کی وفات سے تھوڑے عرصہ بعد حضرت صاحب تعزیت کے لئے لدھیانہ تشریف لائے تھوڑی دیر قیام فرمایا۔والد صاحب مرحوم کی محبت، اخلاص اور دینی خدمت کا ذکر فرماتے رہے۔پھر حضور نے مع حاضرین دعا فرمائی حضور نے قرآن شریف کی یہ آیت وَكَانَ ابُوهُمَا صَالِحًا پڑھ کر فرمایا کہ ان دو تو بچوں پر مہربانی کرنے کی یہ وجہ تھی کہ ان کا باپ صالح تھا رہم بھی اپنے باپ کے دو ہی لڑکے ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے بحالی پر بھی فضل فرمائے۔آمین) یہ وقت بھی گزر گیا اور حضور کے یہاں صاحبزادہ بشیر احمد صاحب اول تو رد ہوئے حضور کا خط لدھیانہ کے احباب کے نام عقیقہ میں شمولیت کے لئے آیا جس میں حضور نے یہ بھی تحریر فرمایا تھاکہ عقیقہ کا ساتواں دن اتوار کو پڑتا تھا مگر کچھ قدرتی اسباب ایسے پیدا ہو گئے کہ عقیقہ بجائے اتوار کے پیر کے دن ہوا جس سے یہ الہام دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ پورا ہوتا ہے۔ہم سب احباب لدھیانہ سے قادیان پہونچے۔یہ سفر قادیان کا میرا پہلا سفر تھا اس سے پہلے میں نے قادیان کو نہیں دیکھا تھا مہمان مسجد اقصٰی میں ٹھرے۔عقیقہ میں ایک دن یا دو دن باقی تھے کہ بارش شروع ہوئی اور تین دن لگا تار پرستی رہی۔قادیان کے چاروں طرف پانی ہی پانی ہو گیا۔صاجزادہ بشیر احمد اول کا عقیقہ بیت العتشکر میں ہوا جو کہ بیت الذکر یعنی مسجد مبارک کے ساتھ کا حضور کے دولت بخانہ کا کمرہ ہے اور جس کا وہی ے مطابق ۲۷ دسمبر ۶۱۸۸۵: که کیف: ۸۳ سے ولادت ، اگست ۶۱۸۸۷