تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 217
۲۱۴ شروع کرتے تھے تو اخبار زمیندار لکھا کرتا تھا کہ 8 نیا بحال لائے پرانے شکاری روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر نمازی اپنے جوتوں سے رہیں ہوشیار لیکن جوئندہ یابندہ آخر وہ ایک ایسا مسئلہ تلاش کر ہی لائے جس سے وہ اپنا کھویا ہوا وقار بھی بحا صل کر لیں اور دہلی کے مخالف پاکستانی آقاؤں کو بھی خوش کر لیں اور یہ دونوں مقاصد اس پارٹی نے قریب قریب حاصل کر لئے ہیں۔وقار تو خیر چند روزہ ہی ہے کیونکہ جونہی ان کا ساتھ دینے والوں پر یہ بھید کھل گیا کہ احرار کا دوسرا مقصد حاصل ہو چکا ہے اور وہ ملک میں بدامنی اور انتشار اور عوام اور حکومت میں بدظنی ، غلط فہمی اور ایک حد تک نفرت پیدا کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جو ان کے دہلوی آقاؤں کے مدنظر تھا، تو وہ ان سے الگ ہو جائیں گے۔ملک بچاروں طرف سے دشمنوں سے گھرا ہوا ہے۔بھارت نے پاکستان کو گلے سے پکڑ رکھا ہے اور کشمیر ہضم کرنے کے لئے سرحدوں پر ساری فوج جمع کئے بیٹھا ہے اور احرار حکومت کے خدات عوام میں نفرت پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور عوام سمجھنے لگے ہیں کہ حکومت دیدہ و دانستہ ایک جماعت کا ساتھ دے رہی ہے اس کی پشت پناہی کر رہی ہے اور اسے کشتنی و گردن زدنی قرار دیتے ہیں بہت بہت و لعل کر رہی ہے، جو مسئلہ ختم نبوت میں ان کے ہم خیال نہیں اور اپنی تبلیغ کے وسیلے وسائل اختیار کر رہی ہے جس سے مسلمان اور خود ساختہ امیر شریعت کے ساتھی قطعا غافل ہیں۔ان کے پالس دلائل کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے اور اب وہ مجبور ہو کہ دھینگا مشتی پر اتر آئے ہیں اور حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس جماعت کا حقہ پانی بند کر دے۔ان پر کا روبار اور ملازمت کے دروازے بند کر دے اور پھر ان کو دیس نکالا دے۔لاحول ولا قوۃ۔ایک مٹھی بھر جماعت سے سات کروڑ پاکستانی مسلمانوں کو خائف کرنے اور اس جماعت کی ناکہ بندی کرتے ہیں احرار پوری طاقت خرچ کر رہے ہیں حالانکہ صاف اور سیدھی سی بات ہے۔اگر یہ جماعت باطل پر ہے تو کسمپرسی سے اپنی موت آپ مر جائے گی اسے اتنی اہمیت دینے کی کیا ضرورت ہے۔اور اگر وہ راستی پر ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کی ترقی ، غلیہ اور قیام سلطنت کے منصوبہ کو نہیں روک