تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 10 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 10

" حاجی افتخار احمد صاحب۔۔۔۔اس عاجز سے کمال درجہ کا اخلاص رکھتے ہیں اور آثار رشد و اصلاح و تقوای اُن کے چہرے پر ظاہر ہیں۔وہ با وجود منتو گلا نہ گزارہ کے اول درجہ کی خدمت کرتے ہیں اور دل و جان کے ساتھ اس راہ میں حاضر ہیں۔بخدا تعالیٰ ان کو ظاہری اور باطنی برکتوں سے متمتع کرے " ہے حضرت صاحبزادہ صاحب کی خود نوشت سوانح میں ہے :۔ر خود نوشت سوانح میری پیدائش بروزمنگل بوقت عصر ۱۴ شعبان ۱۲۸۲ ہجری کی ہے۔میرے والد صاحب کو حضرت صاحب کی اطلاع اس وقت ہوئی جبکہ براہین احمدیہ کے تین حصے شائع ہوئے تھے۔انہوں نے جب ان تین حصوں کو پڑھا اس وقت حضرت اقدس علیہ السلام کی عقیدت و ارادت آپ کے دل میں تحکم ہو گئی۔اس کے بعد براہین احمدیہ حصہ چہارم شائع ہوئی۔والد صاحب کی ارادت سے آپ کے اہل و عیال اور مریدین بھی زمرہ معتقدین میں شامل ہو گئے یا "میرے والد صاحب کو اور میرے بھائی منظور محمد صاحب کو اور مجھ کو حضرت صاحب کی ابتدائی زیارت اُس وقت ہوئی جبکہ حضور ۱۸۸۲ء میں سب سے پہلے تین دن کے لئے لدھیانہ تشریف لے گئے تھے میرے والد صاحب اور میرے بھائی صاحب اور یکں اور سب احباب حضور کے استقبال کے لئے اسٹیشن پر گئے تھے حضور کی پہلی زیارت اسٹیشن پر ہوئی۔میرے والد صاحب نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں بغیر بتلائے حضرت صاحب کو بچان لوں گا۔ایسا ہی ہوا کہ حضور جب گاڑی سے اُترے بغیر بتلائے والد صاحب نے فرمایا کہ وہ یہ ہیں۔“ " حضرت صاحب نے تین روز محلہ صوفیاں میں ڈپٹی امیر علی صاحب صوفی کے ہاں جو کہ میرے والد صاحب کے مرید تھے ، قیام فرمایا " حضور تین دن کے بعد لدھیانہ سے تشریف لے گئے۔اس کے کچھ عرصہ بعد اطلاع ملی کہ حضرت حنا شادی کے لئے دہلی تشریف لے جائیں گے اور فلاں وقت ریلوے سٹیشن لدھیانہ سے گاڑی گزرے گی۔والد صاحب اور لدھیانہ کے احباب پہلے سے سٹیشن پر جا پہنچے لیکن بھی اپنے والد صاحب کے ساتھ تھا جتنی دیر گاڑی کھڑی رہی حضور پلیٹ فارم پر ٹھرے رہے بحضور کے ساتھ جو احباب آئے تھے میرے خیال میں شاید چھ سات ہوں گے حضور اور ساتھی سب اپنے معمولی سادہ لباس میں تھے۔کوئی ایسی علامت ۷۹۳ ے ازالہ اوہام ص (طبع اول : سے یعنی حضرت صوفی احمد جان صاحب نے (ناقل)