تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 216
۲۱۳ گوجرانوالہ گوجرانوالہ بھی احراری تحریک کا ایک مضبوط مرکز بنا ہو ا تھا۔اس شہر کے اخبار " لاحول نے اپنی ماہ ستمبر ۱۹۵۲ء کی اشاعت میں احراری ایجی ٹیشن کو ملک و ملت کے مفاد کے لئے سخت مضرت رساں قرار دیتے ہوئے لکھا:۔گذشتہ تین ماہ حکومتِ عالیہ پاکستان کی آزمائش کے دن تھے۔احرار جو کہا کرتے تھے کہ مسلمانوں کو پاکستان تو کیا اس کی پ بھی میسر نہ آئے گی ختم نبوت کی آڑ میں ملک میں شور و شر پھیلانے اور کھویا ہوا اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اور حکومت یہ جانتی تھی کہ ان کے تار دہلی سے مولوی حبیب الرحمنی ہلا رہے ہیں جو پنڈت نہرو کے معتمد خاص بنے ہوئے ہیں۔اور حکومت یہ بھی جانتی تھی کہ احرار جو کام کرتے ہیں قوم یا اسلام کی خاطر نہیں کرتے بلکہ اپنے ذاتی وقار اور بگڑی ہوئی شہرت کو بنانے کے لئے کرتے ہیں۔چنانچہ مسئلہ شہید گنج جو خالص قومی اور اسلامی مسئلہ تھا اور مسلمانوں کی موت وحیات کا سوال تھا اس کو احراری لیڈروں نے اس لئے ادھورا چھوڑ دیا اور عین موقعہ پر اس سے الگ ہو گئے کہ اگر یہ کامیاب ہو گیا تو نام خدائے ملت حضرت مولانا ظفر علی خان کا ہو گا جو اُس وقت اس تحریک کے قائد تھے۔چنانچہ ایک چوٹی کے احراری لیڈر کے ایک خط کا عکس بھی اخبار زمیندار میں شائع ہوا تھا جس میں خود ساختہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو اس تحریک سے علیحدہ رکھنے کا مشورہ دیا گیا تھا اور صاف لکھا تھا کہ کام تو احرار کریں گے لیکن نام مولانا ظفر علی خاں کا ہو جائے گا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔یہ اس پارٹی کے لیڈروں کا کردار ہے کہ مسجد شہید گنجے ایسے اہم مسئلہ کو جس پر لاہور کے مسلمانوں نے اپنی جانیں نچھاور کر دی تھیں اور یگی دروازہ کے باہر ان کے خون کی ندیاں بہر گئی نقیں محض اس لئے ادھورا چھوڑ دیا کہ کام تو احرار کریں گے نام دوسروں کا ہو جائیںگا۔فاعتبروا يا اولى الابصار اس کے بعد اس پارٹی نے اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کرنے کے لئے جتنے بھی ہتھکنڈے اختیار کئے وہ ناکام رہے شہید گنی کے مسئلہ پر قوم کے ساتھ غداری کرنے والوں کو مسلمانی کبھی بھی معاف نہیں کر سکتے چاہے وہ فرشتہ بن کر بھی آجائیں۔چنانچہ جب بھی اعتمار کوئی نئی تحریک ے ملاحظہ ہو کتاب رئیس الاحرار از عزیز الرحمن جامعی لدھیانوی ؟