تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 200
192 نگار ہوں، لعنت و ملامت ہو لیکن جیتے گا وہی جس کے ساتھ خدا تعالیٰ ہے۔دلوں کی حالت کے متعلق رسول کریم صلى اللّه علیہ سلم فرماتے ہیں إِنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلب ے خدا تعالیٰ اسی دلوں کے بھید جانتا ہے وہی دلوں کو بدل سکتا ہے۔خدا تعالیٰ بھانتا ہے کہ انسان کے کیا خیالات ہیں اور ان کا رد عمل کیا ہے ؟ وہ دلوں کو جانتا ہے۔وہ اعمال کو جانتا ہے اور ان کے رد عمل کو جانتا ہے۔بخدا تعالیٰ کہتا ہے کہ جو میری طرف آتا ہے اسے دلوں کی طرف ایک سرنگ مل جاتی ہے۔آخر دلوں کو بدلنے کا کونسا ذریعہ ہے سوائے اس کے کہ ہم خدا تعالیٰ سے دعا کریں بخدا تعالیٰ نے اس کا ذریعہ صبر و صلوۃ مقرر کر دیا ہے۔جبر کے یہ معنے ہیں کہ انسان کو خدا تعالیٰ سے کامل محبت ہو۔وہ سمجھتا ہے کہ خد اتعالیٰ مقدم ہے اور باقی ہر چیز موخر ہے اس لئے وہ اس کے لئے ہر شکل اور تکلیف کو برداشت کر لیتا ہے۔گویا میر میں جبری طور پر خدا تعالیٰ کی محبت کا اظہار ہوتا ہے اور صلوٰۃ میں عشقیہ طور پر خدا تعالیٰ سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔صبر جبری محیت ہے اور نماز طوعی محبت ہم کچھ کام جبری طور پر کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے خدا تعالیٰ کو نہیں چھوڑنا یہ چیز جبری ہے مشکلات اور مصائب تم خود پیدا نہیں کرتے۔شیمن مشکلات اور مصائب لاتا ہے اور تم انہیں برداشت کرتے ہو اور خدا تعالیٰ کو نہیں چھوڑتے لیکن نماز طوعی ہے نماز تمہیں کوئی اور نہیں پڑھا تا نماز تم خود پڑھتے ہو۔پس تم صیر میں جبری طور پر خدا تعالی کی محبت کا ثبوت دیتے ہو اور نماز میں طوعی طور پر اس کا اظہار کرتے ہو اور یہ دونوں چیزیں مل جاتی ہیں تو محبت کامل ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کا فیضان بھاری ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے فیضان کو حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اس سے صبر و صلوۃ کے ساتھ مدد مانگو۔خدا تعالے کا دلوں پر قبضہ ہے وہ انہیں بدل دے گا میں جب تم سے کہتا تھا کہ جماعت پر مصائب اور ابتلاؤں کا زمانہ آنے والا ہے اس لئے تم بیدار ہو جاؤ اُس وقت تم میری بات پر یقین نہیں کرتے تھے تم ہنسی اُڑاتے تھے اور رکھتے تھے کہ آپ کہاں کی باتیں کرتے ہیں ہمیں تو یہ بات نظر نہیں آتی۔اور جب کہ فقلتہ آ گیا ہے میں تمہیں دوسری خبر دیتا ہوں کہ جس طرح بگولا آتا ہے اور پھلا جاتا ہے یہ فتنہ مٹ جائے گا۔یہ بے کارروائیاں هباء منثورا ہو جائیں گی۔خدا تعالیٰ کے فرشتے آئیں گے اور وہ ان مشکلات اور ابتلاؤں کو جھاڑو دے کر صاف کر دیں گے لیکن بعد التعالیٰ فرماتا ہے اس لے سوره انفال آیت ۲۵ *