تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 199 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 199

194 پڑھنے کو دل تو چاہتا ہے لیکن نیند کے غلبہ کی وجہ سے بیدار نہیں ہوتے وہ بھی تہجد کے لئے اٹھ بیٹھیں گے رمضان میں لوگ اٹھ بیٹھتے ہیں اس لئے کہ اردگر د شور ہوتا ہے۔اکیلے آدمی کو اُٹھائیں تو وہ سو جاتا ہے لیکن رمضان میں وہ نہیں سوتا اس لئے کہ اردگرد آوازیں آتی ہیں۔کوئی قرآن کریم پڑھتا ہے۔کوئی دوسر کو جگاتا ہے۔کوئی دوسرے آدمی سے کہنا ہے کہ ہمارے ہاں ماچس نہیں ذرا ماچس دے دو۔ہمارے ہاں مٹی کا تیل نہیں تھوڑا سا مٹی کا تیل دو۔کوئی کہتا ہے کہ ہمارے ہاں آگ نہیں آگ دو۔کوئی کہتا ہے یک سحری کھانے کے لئے تیار ہوں روٹی تیار ہے؟ یہ آوازیں اس کا سونا دو بھر کر دیتی ہیں وہ کہتا ہے نیند تو آتی نہیں لیٹنا کیا ہے چلو چند نفل ہی پڑھ اور رمضان بیشک برکت ہے لیکن رمضان میں جاگنے کا بڑا ذریعہ یہی ہوتا ہے کہ اردگرد سے آوازیں آتی ہیں اور وہ انسان کو جگا دیتی ہیں۔ایک آدمی آٹھ بجے سوتا ہے اور اسے دو بچے بھی بھاگ نہیں آتی لیکن ایک آدمی بارہ بجے سوتا ہے لیکن تین بجے اٹھ بیٹھتا ہے اس لئے کہ ارد گرد سے آوازیں آتی ہیں۔ذکر الہی کر نے کی آوازیں آتی ہیں۔قرآن کریم پڑھنے کی آوازیں آتی ہیں۔کوئی کسی کو جگا رہا ہوتا ہے اور کوئی کھانا پکا رہا ہوتا ہے اور اس کی آواز اُسے آتی ہے۔اس لئے صرف تین گھنٹے سونے والا بھی اٹھ بیٹھتا ہے یہ ایک تقدیر ہے جس سے بھاگنے کی عادت ہو جاتی ہے اس مقامی دیداروں کو چاہیے کہ وہ اس کا محلوں میں انتظام کریں اور پھر اسے باہر بھی پھیلایا جائے تا آہستہ آہستہ لوگ تہجد کی نماز کے عادی ہو جائیں پھر اگر کوئی تجد کا مسئلہ پوچھے تو اسے کہو کہ اگر تجد رہ جائے تو اشراق کی نماز پڑھو جو دو رکعت ہوتی ہے وہ بھی رہ جائے تو صحی پڑھو جو نتیجہ کی طرح دو سے آٹھ رکعت تک ہوتی ہے اس طرح تہجد اور نوافل کی عادت پڑ جائے گی۔صلوۃ کے دو معنے ہیں نماز اور دعا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاسْتَعِينُوا بالصبر والصلوة تم مد در الگو صبر، نماز اور دعا سے۔اور جو شخص خدا تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہے اس میں شبہ ہی کیا ہے کہ کوئی شخص اس پر غالب نہیں آسکتا۔اگر خدا تعالی ہے تو سیدھی بات ہے کہ اس سے زیادہ طاقتور اور کوئی نہیں۔اگر خدا تعالیٰ سے زیادہ طاقتور اور کوئی نہیں تو یقیناً وہی شخص جھیلتے گا جس کے ساتھ خدا تعالیٰ ہے۔بے شک کسی کے ساتھ دنیا کی سب طاقتیں ہوں، مجلسے ہوں، جلوس ہوں ، نعرے ہوں، قتل و غارت ہو ، قید خانے ہوں، پھانسیاں له البقره ١٩٤ +