تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 198 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 198

190 یہ ڈر ضرور ہے کہ جب اسی قسم کا پروپیگینڈا کیا جاتا ہے تو اکثر لوگ صداقت کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔پس ہماری سب سے مقدم دعا یہ ہونی چاہیے کہ بخدا تعالیٰ ہماری مشکلات کو دور کر دیے جو لوگوں کے صداقت قبول کرنے میں روک ہیں اور اُن کی توجہ اس طرف پھیر رہی ہیں۔ابتلاء مانگنا منع ہے لیکن اس کے دور ہونے کے لئے دعا مانگنا سنت ہے اس لئے یہ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ وہ روکیں ڈور کر دے جو لوگوں کو صداقت قبول کرنے سے ہٹا رہی ہیں اور ہماری منکر مندیوں کو دور کر دے۔ہاں وہ ہمیں ایسا بے منکر اور بے ایمان نہ بنائے کہ جس کی وجہ سے ہمارے ایمان میں خلل واقع ہو۔در حقیقت ایمان کا کمال یہ ہے کہ انسان خوف اور امن دونوں حالتوں میں خدا تعالیٰ کے سامنے مجھکے۔اگر کوئی شخص خوف اور امن دونوں حالتوں میں خدا تعالیٰ کے سامنے جھکتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اسے امن دیتا ہے لیکن جو مومن خوف کی حالت میں خدا تعالیٰ کے سامنے جھکتا ہے امن کی حالت میں نہیں خدا تعالیٰ اس کے لئے ٹھوکریں پیدا کرتا ہے۔اگر بخدا تعالیٰ اسے مرتد کرنا چاہتا ہے تو وہ اس کے لئے امن کی حالت پیدا کر دیتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ سے دُور ہو جاتا ہے۔پس جو لوگ نماز کے چاہت ہیں وہ نماز سنوار کر پڑھیں اور جو نما ز سنوار کر پڑھنے کے عادی ہیں وہ تہجد کی عادت ڈالیں پھر نوافل پڑھنے کی عادت ڈالیں پھر نہ صرف نوافل پڑھیں بلکہ دوسروں کو بھی نوافل پڑھنے کی عادت ڈالیں۔خدا تعالیٰ نے لوگوں کو روزہ کی عادت ڈالنے کے لئے ایک ماہ کے روزے فرض کئے ہیں۔روزے فرض ہونے کی وجہ سے ایک مسلمان ایک ماہ جاگتا ہے، اور پھر اپنے ساتھیوں کو بھی جگاتا ہے ڈھول بٹتے ہیں اور اس طرح تمام لوگ اس مہینہ میں تہجد کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔اگر ایک ہمسایہ روزہ کے لئے نہ اُٹھتا تو دوسرا بھی نہ اُٹھتا لیکن چونکہ ایک آدمی روزہ کے لئے اُٹھتا ہے تو اس کی وجہ سے دوسرا بھی بیدار ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اس طرح روزے فرض کرتے ہیں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ سب لوگوں کو اس عبادت کی عادت پڑ جائے یہی اسی قسم کی تدبیریں اور گوشہ نہیں ہماری رکھنا بھی ضروری ہے۔ریدہ کی جماعت کے افسران اور عہدیداران محلوں میں تہجد کی تحریک کریں اور جو لوگ تہجد پڑھنے کے لئے تیار ہوں اور یہ عہد کریں کہ وہ تہجد پڑھنے کے لئے تیار ہیں ان کے نام لکھ لیں اور جب وہ چند دنوں کے بعد اپنے نفوس پر قابو پالیں تو انہیں تحریک کی جائے کہ وہ باقیوں کو بھی جگائیں۔جب سارے لوگ اُٹھنا مشروع ہو جائیں۔پیسے بجنے لگ جائیں تو کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا نماند