تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 172 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 172

199 کی آسودگی کا ضامن ہے لہذا کسی خام خیالی کے باعث غلط راہیں اختیار کر کے کوئی ایسی صورت پیدا کرنے کی کوشش نہ کرنا چاہیئے جس سے ملک کی نیک نامی پر آنچ آئے۔جمہور کو چاہیے کہ وہ مسٹر طالب نقوی چیف کمشنر کراچی کے ان الفاظ پر توجہ دیں اور ہمیشہ کے لئے انہیں مشعل راہ بنائیں کہ :- " مرزائی بھی پاکستانی ہیں اور انہیں بھی اجلاس منعقد کرنے کا حق اس وقت تک حاصل رہے گا جب تک کہ وہ مرتبہ قانون کی خلاف ورزی نہ کریں حکومت کسی شخص کو یہا جازت نہیں دے سکتی کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لے یا ساتھ ہی ہم علمائے کرام کی خدمت میں بھی گزارش پیش کریں گے کہ وہ جواز وعدم جواز کی بہت میٹر کر بجارحانہ ذہنیتوں کی حوصلہ افزائی نہ فرمائیں نیز پریس کو بھی اپنے واجبات اور ملک کے حالات کا حسان کرنا چاہیے۔اس سلسلہ میں ہر مئی کو کراچی میں مجلس ختم نبوت کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں طبقہ علماء نے جو بیان دیا ہے اسے ہم کم از کم پاکستانی معیار کے علماء کے اذہان کا نتیجہ نہیں کر سکتے۔راس کا نفرنس میں ہمارے ایک ذمہ دار عالم مولانا مفتی جعفر حسین صاحب قبلہ بھی شریک تھے اس اعتبار سے مولانائے موصوف بھی ایک حد تک مسئول ہیں جس کا ہمیں سخت ملال ہے۔اور بصد ادب و احترام ہم قبلہ وکعبہ کی خدمت میں کنجی ہیں کہ وہ آئندہ ایسی کسی نشست میں شمولیت نہیں فرمائیں گے جس میں شعوری طور پر قرار داد مقاصد کا پاس اور اقلیتوں کے لئے جذبہ احترام موجودہ ہو۔اس وقت سواد اعظم کے علماء صرف احمدیت کے خلاف اپنی جذبہ دارانہ ذہنیت کا استعمال کر رہے ہیں مگر ان کے بگڑے ہوئے تیور شیعوں کو بھی للکار سکتے ہیں اور فضا اعلان کر رہی ہے؟ آج وہ کل ہماری باری ہے۔است روزنامه آزاد" (مشرقی پاکستان) مورخہ ۲۰ مئی ۱۹۵۲ء نے لکھا۔مشرقی پاکستان | معلوم ہوا ہے کہ مسلمانوں کا ایک فریق کراچی میں ایک جگہ متواتر داو دن سے اپنا (سالانہ جلسہ کر رہا ہے اور ایک اور فریق کے لوگ جلسہ گاہ پر حملہ کر کے روک ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دوسرے دن وزیر خارجہ پاکستان چوہدری ظفر اللہ خان صاحب تقریر کو له در نجف الجوال روزنامه الفضل لاہور مورشه ۳ - جون ۱۹۵۲ء ص ہے