تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 156 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 156

۱۵۳ اختیار کر رکھا ہے جس کے نتائے ، جہانگیر پارک کے جلسے میں ظاہر ہو گئے ہم ہر گئے اس الزام کو نا نے کے لئے تیار نہیں کہ قادیانیوں کے جلسہ میں اشتعال انگیزی کی گئی۔مولانا احتشام الحق صاحب اور ان کے دوسرے رفقاء نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سو ڈیڑھ سو قادیانیوں کی خوشنودی کے لئے کراچی کے سولہ لاکھ باشندوں کو کچلا نہیں سما سکتا اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس جلسہ میں قادیانیوں کی تعدا د سو ڈیڑھ سو سے زائد نہ تھی۔انصاف کیجئے کہ مخالفت کے ایسے عظیم طوفان میں مٹھی بھر انسانوں کو اشتعال انگیزی اور بد زبانی کی جرات ہو سکتی ہے ؟ نہیں یہ الزام کوئی شخص تسلیم نہیں کر سکتے اس سلسلہ میں چیف کمشنر نے جو وضاحت کی ہے صرف وہی قابل تسلیم ہے۔ہمیں معلوم ہے کہ کافی عرصہ سے قادیانیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر اشتعال انگیزی کی جارہی ہے اور اس پر جوش مخالفت کے سبب پنجاب میں کہیں کہیں چند نا خوشگوار حوادث بھی کہیں آئے۔چند ماہ قبل کراچی میں اینٹی قادیانی اجتماعات ہوئے تھے انہوں نے بھی مخالفانہ احساسات کو کافی بھڑکایا۔اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کے ایک مشتعل ہجوم نے پولیس سے مڈبھیڑ کے بعد شیزان ریسٹورنٹ، احمدیہ فرنیچر سٹور، احمدیہ لائبرید کی اور بعض دوسرے ایسے اداروں کو جن کے متعلق احمدی ملکیت ہونے کا شبہ تھا آگ لگانے کی کوشش کی اور اگر کراچی ایڈ منسٹریشن اس موقع پر غیر معمولی احتیاطی تدابیر نہ اختیار کرتا اور پولیس وسیع پیمانے پر حرکت میں نہ لائی جاتی تو خدا جانے کراچی میں کیا کیا مناظر دیکھنے میں آتے ہم ایک طرف تو حضرت علماء کرام کے روشن خیال طبقہ سے درخواست کریں گے کہ وہ خدا اور رسول کے لئے میدان میں آئیں اور جاہلوں کو موقع نہ دیں کہ وہ دس لاکھ انسانوں کے خون سے خریدی ہوئی اس گراں مایہ مملکت کے اتحاد ، سالمیت اور آزادی کو خطرہ میں ڈال دیں اور دوسری طرف حکومت پاکستان سے اصرار کریں گے کہ مذہبی اشتعال انگیزی کے مقابل اس کا رویہ اب تک تحمیل اور نرمی کا رہا ہے۔یہ رویہ ایک دن پوری قوم کو خطرے میں ڈال دے گا جہاں تک قادیانیوں کا تعلق ہے ہم اس کے حامی ہیں کہ ان کے عقائد کی تردید مؤثر طور پر کی بھانی چاہیئے اس کا طریقہ یہ ہے کہ علماء اسلام تحقیق و علم کے میدان میں ان کا مقابلہ کریں لیکن یہ غنڈہ گردی ، یہ یلوے، یہ اشتعال انگیزیاں ہمیں صاف لفظوں میں اعلان کرنا چاہیئے کہ پاکستان میں ان میں مخالف سے پر لاٹھیاں برسانے والوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے یا