تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 155 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 155

۱۵۲ رہے گی پاکستان کی سالمیت خطرے میں رہے گی۔کراچی کے بعض علمائے اسلام کا بیان ہے کہ اس ہنگامہ کا سبب قادیانی جماعت کی دل آزاد اور اشتعال انگیز تقریریں تھیں۔اور مسٹر ابو طالب نقوی چیف کمشن کا اعلان یہ ہے کہ ہنگامہ ایک منظم سازش کے ماتحت کرایا گیا۔اوراگر پولیس کی پوری طاقت استعمال نہ کی جاتی تو خدا جانے قادیانیوں کے خلاف یہ گڑ بڑ کیا رخ اختیار کرتی کہ نقوی صاحب نے اپنے بیان میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ اس ہنگامہ کی وسعت اور اس کے پس منظر کی طرف انتشار ہے کئے ہیں چیف کمشنر کے وضاحتی بیان کی تردید مفتی محمد شفیع ، مولانا احتشام الحق ، مفتی جعفر حسین در کن پارلیمنٹ اور مولانا لال حسین اختر نے کی ہے اور اشتعال انگیزی کا سر چشمہ قادیانی جماعت کے مقریروں بلکہ خود چوہدری سرمحمد ظفر اللہ صاحب کو قرار دیا ہے۔ان متضاد بیانات کی موجودگی میں بیک وقت کو قطعی نتیجہ تک پہنچنا مشکل ہے تاہم اگر سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ صورت حالات کا تجزیہ کیا جائے تو چند" واضح حقائق تک پہنچنا چنداں مشکل نہیں رہتا۔بھلا اس بات سے کون واقف نہیں کہ پورے پاکستان میں قادیانی جماعت کی تعداد چند لاکھ (شاید یہ اندازہ بھی زیادہ ہے) سے زیادہ نہیں۔اور اس قلیل تعداد کو ہمیشہ ایک عظیم ترین مخالفت سے دو چار رہنا پڑتا ہے مرزا غلام احمد صاحب کے متعلق قادیانیوں کے کیا عقائد ہیں؟ وہ ان کی مجددیت کے قائل ہیں یا نبوت کے ؟ وہ ختم رسالت کے عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں یانہیں؟ یہ تمام باحث علمی و تقویتی نوعیت رکھتے ہیں اور بینصب علماء کا ہے کہ وہ ان عقائد کی تردید اور اصلاح کریں۔اور جو گراہ لوگ تم دراست کے عقید ے میں متذبذب ہیں ان کو راہ راست پر لائیں۔لیکن یہ بحث و مباحثہ مناظرہ و مکالمہ کی حدود تک رہنا چاہیے۔بے شک جو شخص ختم رسالت کے عقیدے کو نہ مانے وہ مسلمان نہیں۔اس باب میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں لیکن قادیانی اپنی صفائی میں کیا کہتے ہیں ہمارا فرض ہے کہ تحمل کے ساتھ اُسے شنین اور جہاں جہاں انہیں اعتقادی طور پر غلط پائیں نرمی کے ساتھ منقبہ اور محبت کے ساتھ خبر دار کریں۔یہ تو ہے اصلاح نفوس اور امر بالمعروف کا وہ طریقہ جو اسلام نے تسلیم کیا ہے اور قرآن مجید میں بار بار اس کا اعادہ کیا گیا ہے۔غنڈہ گردی اور جہالت کا راستہ یہ ہے کہ لاٹھیاں لے کر مخالف عقیدہ رکھنے والوں پر دھاوا بول دیا بھائے اور ڈنڈے کے زور سے انکی اصلاح کی جائے۔افسوس یہ ہے کہ بعض حلقوں نے قادیانیوں کی اصلاح کے لئے یہیں دوسزار اکستر