تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 126
irt آئی جی پولیس ، سپرنٹنڈنٹ ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ، ڈسٹرکٹ اور ایڈیشل مجسٹریٹ وغیرہ اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی تقریشی شروع ہوتے ہی باہر کے لوگوں کو اندر آنے سے روگ دیا گیا اور اُن لوگوں کو جو ایک بھاری تعداد میں با ہر جمع ہو کر نعرے لگارہے تھے اور شور مچا رہے تھے پولیس نے سمجھایا کہ دفعہ ۱۴۴ کے ماتحت اُن کا وہاں آنا خلاف قانون ہے لیکن اس کا الٹ نتیجہ بر آمد ہوا اور غضبناک ہجوم تشدد پر اتر آیا مجبوراً پولیس کو بھی کئی بار اشک آور گیس استعمال کر نا پڑی جین کے بعد بلوائیوں نے شیزان ہوٹل کو آگ لگادی، شاہنواز موٹرز کے شوروم پر سنگباری کر کے شیشے توڑ وئے اور نئی موٹروں کو نقصان پہنچایا، احمدیہ فرنیچر ہاؤس میں آگ لگا دی بلوائیوں نے بہت ڈر روڈ پر احمدیہ لائبریزی اور احمدیہ ہال (احمدیہ سجد) کو بھی جلانے کی کوشش کی اور گو فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھا دی لیکن اس کے با وجود ان مقامات پر ہزاروں روپے کا نقصان ہو گیا۔اس وقت اپنے دیتے احمدیوں کو بھی ظلم کا تختہ مشق بنایا گیا۔ایک نوجوان کے سر پر سخت چوٹیں آئیں۔ایک احمدی نوجوان پر چاقو سے قاتلانہ حملہ کیا گیا مگر وہ خدا کے فضل سے محفوظ رہے۔احمدیوں کا صبر و تقتل اس نہایت دل آزار اور اشتعال انگیز فضا میں احمدیوں نے صبر و تحمل اور اطاعت و فرمانبرداری کا جو نمونہ دکھا یا وہ اپنی نظیر آپ تھا فحش گوئی اور گالیوں کی بوچھاڑ میں بھی ہر احمدی نے قانون کا احترام ضروری سمجھا اور شروع سے آخر تک پورے وقار کے ساتھ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ کر قال اللہ اور قال الرسول کی اس پاکیزہ مجلس سے ہر کن استفادہ کیا۔جلئیے کراچی کے موقعہ پر مطار سلسلہ چوہدری مد ظفراللہ خان ایک ایمان اوری ایران این بیاید و پیاز معلومات تھیں خصوصا چوہدری محمد ظفر اللہ بخاری صاحب کا خطاب بہت ایمان افروز تھا جس میں آپ نے علمی اور واقعاتی دلائل سے روز روشن کی طرح ثابت کیا کہ دنیا میں صرف اسلام ہی زندہ مذہب ہے به تقریر کا خلاصہ افضل اور ہجرت ۱۳۳۱ امت میں شائع شدہ ہے ایضاً تحدیث نعمت ماده مو فر مودودی محمد ظفر اللہ خان صاحب طبع بول دسمبر > ۱۹ و مطبع جسارت پرنٹر نہ ۲۳ سریکہ روڈ کا ہو رہے