تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 90
AL وقت ایک لاکھ کے حصے اگر صاحب توفیق احباب خرید لیں تو پانچ لاکھ سرمایہ ہو جائے گا اور یہ اتنا بڑا سرنا یہ ہے کہ اس سے اعلیٰ درجہ کا پر یس اور کافی کتب شائع کی جا سکتی ہیں یسر دست یکں اس غرض کے لئے چار لاکھ سرمایہ کی ہی اجازت دیتا ہوں، اگر ضرورت پڑی تو بعد میں اس رقم کو بڑھنا یا بھی جاسکتا ہے۔جب اس کمپنی کی وجہ سے آمد شروع ہوگئی تو چونکہ خلافت جوبلی فنڈ کے روپیہ پر اس کی بنیا د رکھی گئی ہے اور یکں نے اس فنڈ سے وظائف دینے کا بھی اعلان کیا تھا اس لئے آمد کے پیدا ہونے پر اس کا ایک حصہ وظائف میں بھی جا سکتا ہے۔اب رہ گئی تحریک بعدید کی چار لاکھ روپیہ کی کمپنی حسین کا کام اُردو کے سوا دوسری زبانوں میں لٹریچر شائع کرنا ہو گا، اس کمپنی کے سرمایہ کے لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ قرآن کریم کے غیر نہ بانوں میں تراجم کا کام چونکہ اس کا حصہ ہے اور اس کا سرمایہ ہماری جماعت دنئی سال سے جمع کر چکی ہے جود و لاکھ کے قریب ہے اس لئے میں یہ یصلہ کرتا ہوں کہ تراجم قرآن کا دو لاکھ روپیہ اس کمپنی کو دے دیا جائے۔وہ تراجم بھی یہی کمپنی شائع کرے گی اور اس کے علاوہ دوسرا لٹریچر بھی یہ کمپنی شائع کرے۔باقی کولاکھ روپیہ رہ گیا اس کے لئے میرے ذہن میں ایک اور مورت ہے، اگر اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے اور وہ کام بن جائے تو اس کمپنی کے لئے بھی پورا سرما بہ حاصل ہو سکتا ہے، میرے ذہن میں جو صورت ہے وہ ایسی نہیں کہ فوری طور پر روپیہ مل جائے لیکن ہر حال اگر کوشش کی جائے تو مجھے امید ہے کہ دو لاکھ روپیہ ہمیں مل جائے گا۔اس کے لئے ایک زمین کو فروخت کرنے کی ضرورت ہے جو مجھے کیسی دوست نے تحفہ کے طور پر پیش کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ تحفہ بھی اس طرف منتقل کر دوں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر ملکی زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم شائع کئے جائیں یا لے اس عظیم الشان سکیم کے مطابق" الشركة الاسلامیہ" اور " دی اورینٹل اینڈ ریلیجین پیشنگ کارپوریشن لمیٹیڈ کے نام سے دو مستقل اشاعتی ادارے معرض وجود میں آئے جن کی بدولت مسلسلہ احمدیہ کا اُردو عربی اور انگریزی لٹریچر کثیر تعداد میں چھپ کر منظر عام پر آچکا ہے لیئے اس مشاورت کو خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اس ایک مکمل مرکزی لائبریری کا منصوبہ میں حضور نے پہلی بار جماعت احمدیہ کے سامنے ایک ہ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۳ ء کا اتنا بے کے تفصیل اپنے مقام پر آئے گی :۔