تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 83 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 83

Ar کے قدم نہیں جمنے دوں گا۔قانونی طور پر اُس کا کیس بظاہر بہت مضبوط تھا مگر آپ نے جرأت ایمانی سے کہا کہ اب انشاء اللہ مجھے ضرور کامیابی ہوگی کیونکہ اب تمہارا مقابلہ غلام رسول سے نہیں بلکہ احمدیت سے ہے چنانچہ عجیب تعرف الہی کے ماتحت اس مقدمہ کا فیصلہ آپ کے حق میں ہو گیا۔تلاوت قرآن کریم نہایت ذوق و شوق سے کرتے تھے۔فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزے بھی کثرت سے رکھتے تھے۔سیکیوں مظلوموں ہمسکینوں اور غریبوں کی امداد کے لئے آپ کے اندر ایک خاص خوش تھا اور آپ اس میں روحانی لذت و فرحت محسوس کرتے تھے بعض موقعوں پر اپنے اپنی ملازمت تک کو خطرے میں ڈال کر صوبہ سرحد کی عظیم شخصیتوں کے مقابلے میں لعض غریب مظلوم 1411-15 اور سیکس لوگوں کی علی الا علمان مدد کی۔آپ کے گھر میں مہمانوں کا عموما تانتا بندھا رہتا تھا۔آپ سائر میں پشاور گورنمنٹ ہائی سکول کے استفاد ہو کر آئے مگر جبانہ مدرسی ترک کر کے دفتر سیشن جج پشاور میں انگریزی مترجم مقرر ہوئے اور رفتہ رفتہ ترقی کر کے سیشن جج کے مثل خواب مقرر ہوئے بالآخر جوڈیشنل کمشنر کے ریڈر (مثل خواں) بنادئے گئے۔آپ سرود ہائیکورٹ کے نہایت کامیاب اور ماہر سینٹر ریڈر تھے اور بڑے سے بڑے افسر بھی آپ کی قانونی باریک نظری اور تجر معلومات کے قائل اور آپ کی محنت، دیانتداری اور پاکیزگی کے معترف تھے میٹوبہ سرحد کی ہائی کورٹ کے انگریز چیف جج اور جوڈیشنل کمشنر مٹر فریزر نے بعض نا جانے تصرفات یعنی رشوت لینے میں آپ سے مدد لینا چاہتی مگر آپ نے صاف انکار کر دیا اور صاحب کی مخالفت کی نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کی ملازمت تک خطرے میں پڑ گئی۔آپ نے دعا کی تو آپ کو بتایا گیا کہ اتنی دفعہ متواتر یہ بھی دعا کر و لا اله الا انتَ سُبْحْنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ اور تجد بھی پڑھو۔چنانچہ آپ نے تہجد اور دعاؤں کا خاص مجاہدہ کیا۔چند دن بعد آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ کی آنکھیں انگارے کی طرح سُرخ ہوگئی ہیں اور جس شخص کی طرف آپ دیکھتے ہیں وہ مر جاتا ہے۔اسی اثناء میں آپ نے دیکھا کہ انگریز چیف ج بھی آپ کے سامنے آیا اور مرگیا چند روز بعد اس کو سیل کے مرض کی تشخیص ہوئی اور وہ چھٹی لے کر ولایت چلا گیا اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔آپ مالی قربانی کو خاندانی اور قومی ترقی کا ذریعہ سمجھتے اور سلسلہ احمدیہ کی مالی تحریکوں میں ضرور حصہ لیتے تھے چنانچہ حضرت قاضی محمد یوسف صاحب امیر جماعت احمدیہ سرحد کا بیان ہے کہ :۔i