تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 82
Al مولوی صاحب کی دعائیں مستجاب ہوئیں مضمون لمبا ہو گیا ہے لذیذ بود حکایت در از تر گفتم تزریق لیکن تین باتیں ابھی قابل ذکر ہیں۔ایک دن مولوی صاحب مرحوم بڑے غمناک پہنے میں فرمانے لگے کہ بھٹی میں نے تو ابھی وہ کام نہیں کیا جو کرنا چاہیئے تھا تین ماہ کی رخصت لے کر دوبارہ آؤں گا۔اس قدر احساس و ایثار کے باوجود ان کا یہ بے ساختہ انکسار بہت ہی درد انگیز تھا۔انہی ایام میں انسپار کے آریہ پر چارک نے کچھ سلوا پوری ایک تیوہار کی تقریب پر مولوی صاحب کے لئے بھیجا مرحوم فوراً اس کی چال کو بھانپ گئے اور لانے والے کو سختی سے ٹوکا کہ پنڈت جی سے جا کر کہہ دو کہ ھے عطائے تو بخشیدم بہ لقائے تو یہ ناپاک کھا تا ہم نہیں کھا سکتے۔بات یہ تھی کہ آریوں کی عامیانہ اور ملتی ہوئی دلیل ان دنوں میں ایک یہ بھی تھی کہ مسلمان ادنی ہوتے ہیں، اس لئے ہندوؤں کے ہاتھ کا کھا لیتے ہیں اور ہندو اعلیٰ ہونے کی وجہ سے مسلمان کے ہاتھ کا نہیں کھاتے مبلغین کو ان ایام میں خصوصیت سے ہدایت تھی کہ ہندوؤں کے ہاتھ کی کوئی چیز قطعا نہ کھائیں۔استغاثہ کے دو گواہ غیاثی اور سردار خان نامی موضع اسپار کے دو ملکانے تھے جنہوں نے مولوی صاحب کے فیض محبت کی بدولت بڑی ہمت دکھائی اور اپنے دیہ کے جتھے کے مضلات بحق استغاثہ شہادت دی تھی۔اس کے بعد دیہ میں ان کا رہنا آسان نہ تھا دونوں قادیان پہلے گئے اور مجھے یہ علوم ہے کہ مولوی صاحب مرحوم کئی سال تک اپنے پاس سے ماہانہ وظیفہ انکو دیتے رہے۔کالے حضرت مرزا غلام رسول صاحب دعا گو اور ستجاب الدعوات بزرگ تھے پنجوقتہ نمازوں کے علاوہ تہجد کا بہت التزام کرتے تھے۔آپ کی دعاؤں میں اتنا سوز اور اتنی شدت والحارج ہوتا تھا که لیسا اوقات یوں معلوم ہوتا کہ آپ کے سینہ میں ایک ہنڈیا اُبل رہی ہے۔آپ کو دعاؤں کی تاثیرات پر زبر دست ایمان تھا۔آپ نے ایبٹ آباد میں مکان بنا نے کے لئے زمین خریدی تو صوبہ سرحد کے ایک بڑے اور نقد شخص نے آپ پر مقدمہ دائر کر دیا اور کہا کہ میں یہاں مرزائیوں له روزنامه الفضل ۲۶ اخاء ١٣٢٨ ما