تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 81
یہی ان کا معمول اور وظیفہ تھا۔اور بایں ہمہ ان کی خود اعتمادی، زندہ دلی اور بے تکلفی میں ذرا فرق نہ آتا تھا ہر وقت خوش نظر آتے تھے اور میں انہیں زندہ دل صوفی کہا کرتا تھا۔اس زمانے کی ڈائری اتفاق سے میرے پاس محفوظ رہ گئی ہے جس کا ایک ورق مندرجہ بالا کیفیت کا آئینہ دار ہے اور یہ تاریخ فیصلہ مقدمہ سے متعلق ہے۔وهو هذا :- ۱۳ اکتوبر ۹۲۳ه بروز بدھ بے و بچے کچھری پہنچے ہم درج ہیں انتظار و دعا کرتے رہے۔اتنے میں بارہ بج گئے۔ہاں رات میشی کار صاحب کو خواب آیا کہ چلتے چلتے ان کی ایڑیاں زخمی ہوگئیں کسی نے مرہم لگایا اور اچھی ہوگئیں۔اسی شب مجھے دو خواب آئے ایک میں مجسٹریٹ سے میں کر رہا ہوں کہ مقدمہ صاف ہے سزا کیوں نہیں دیتے۔اس نے کہا کہ مستغیث کا بیان کچھ کمزور ہے۔میں نے کہا معالات کے ماتحت ایسا ہی بیان ہونا چاہیے تھا۔اس نے کہا اچھا ئیں سزا تجویز کرتا ہوں اور ایک ملزم تو خود مجھے آگرہ کہہ گیا ہے کہ اس کے دو بید لگا دو اور فیصلہ لکھنا شروع کیا۔اسی طرح پیش کا ر صاحب کو اسی شب خواب آیا کہ عبد اللہ سقہ ساکن اُس پار نے ایک سانپ ایک سوئی میں بند کر کے دیا اور چوہدری فتح محمد صاحب نے اسے مارڈالا صبح ہم نے ایک دوسرے کو خوا نہیں سنائیں اور کچہری روانہ ہوئے۔ایک بجے کے قریب آواز پڑی ۱۶ ملزمان میں سے ۱۳ کو سزا ہوئی اور ایک ایک سال کے لئے حفظ امن کی ضمانتیں ملزمان سے لی گئیں اور جرمانہ میں سے ایک صد رو پر مستغیث کو حرجانہ دلایا گیا ہمارے دل سجدے میں مجھک گئے۔لپک کر ڈاکخانہ گئے۔تاریخدمت حضرت صاحب اور خطوط لکھے گئے۔ملزمان اور ان کے آریہ مرتی اور وکلاء مبہوت اور ہم اور ہمارے ملک نے ہمرا ہی مسرور تھے پیشی کا رصاحب اسی وقت اُس پار جانے کے لئے مشتاق لیکن صلاح ٹھہری کہ اس رات پیشکار صاحب اُس پار کی بجائے مانا کے بنگلے ٹھریں سردار خان آکر اطلاع دے۔خیال ہے کہ فوری رینج کا اثر زائل ہوکر صبح دیہ میں امن ہو جائے گا یا " دوسرے دن سات اخبارات کے نام فیصلہ مقدمہ کی تاریں دے دی گئیں یا م عجیب تنظیم الحال انسان تھے مقدمہ ختم ہوتے ہی پھر اپنے کام پر جا ئے۔پھر وہی مسجد کا کچا کوٹھے وہی چھتر اور پھر وہی تبلیغ کا سلسلہ تھا اور پھر حریفان را نه سرباند و نه دستار اس کے ایک ماہ بعد بہت سے سڑکانے ضلع اسپار کے باشندے واپس اسلام میں داخل ہوئے اور