تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 80
29 تھے مانع آئے اور مولوی صاحب مرحوم کی جان سلامت رہی۔پھر انہوں نے تقاضا کیا کہ ہمارے گاؤں سے نکل جاؤ مرحوم نے مومنانہ عزم و استقلال سے جواب دیا کہ یہ گاؤں میرے امام نے میرے سپرد کیا ہے میں اپنا کام کسی صورت میں چھوڑ نہیں سکتا سے تا سر نہ وہم پا نکشم از سر کویش نامری و مردی قدم فاصله دارد ایے پر خطر ما حال میں مرحوم برابر اپنے فرض پر مجھے رہے۔آگرہ ہمارا تبلیغی مرکز تھا وہاں بھی بعد میں اطلاع ہوئی مرحوم کا یہ نمونہ ایسا اعلیٰ تھا کہ خد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس پر خوش نوری کا اظہار فرمایا اور ہمارے دوستوں کے حوصلے بلند سے بلند تر ہو گئے۔حالات کا تقاضا تھا کہ مجرموں کے خلاف مقدمہ چلایا جائے تاکہ دوسرے مبلغین کے خلاف اس قیم کی شرارتیں آریوں کی طرف سے برپا نہ ہوں اور اس کا قومی احتمال بھی تھا۔پولیس نے بو تفتیش ملزمان کا چالان نہ کیا تو مولوی صاحب مرحوم کی طرف سے استغاثہ دائر ہو گیا اور شہر تھا میں بعدالت انگریز مجسٹریٹ مسٹر فرائیٹس سماعت شروع ہوئی۔ان دنوں تبلیغی سفر دور و نزدیک کرنے پڑتے تھے ساتھ نه سامان نه بیستره سبکبار مردم سبک ترید وند حق این است صاحبدلان بشنوند بار ہا ایسا اتفاق ہوا کہ کچھ رات گئے گاڑی پتھر اسٹیش پر پہنچی۔کوئی ٹھکانہ توتھا نہیں ہم پلیٹ فارم نہ ہی ایک طرف کو ایک چادر بچھا کر پڑے رہتے تھے اور مرزا صاحب مرحوم کی زندہ دلی اور خوش طبعی سے باتوں باتوں میں وقت کٹ جاتا اور وہ خود ان کاموں میں ایسی لذت اور سرور محسوس کرتے تھے کہ گویا کوئی مشکل کوئی بات ہی نہیں۔مرحوم اس وقت جو ڈیشنل کمشنر پشاور کے ریڈر تھے اور اپنی قابلیت اور دیانت کی وجہ سے ممتاز اور معتمد علیہ ناموافق حالات کے ماتحت مقدمہ کی کامیابی بظاہر شکل نظر آتی تھی لیکن مرحوم کی ذہانت تدبیر اور خصوصاً شبانہ روز دعاؤں نے اس مہم کو آسان کر کے چھوڑا مقدمہ کی بیٹی کے دن مرحوم کا قاعدہ تھا کہ احاطہ عدالت میں ایک طرف اگر عالم تنہائی میں گھنٹوں سربسجدہ اور دوست بندھا رہتے اور جب مقدمہ کے لئے آواز پڑتی تو اکثر وہ جائے نماز سے اُٹھ کر ہی عدالت کے کمرے میں جاتے۔