تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 67
۶۶ اس مبارک اجتماع پر بالاتفاق ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں بھارتی حکومت کو توجہ دلائی گئی کہ :- ا۔قادیان میں مقیم درویشوں کو یہ اجازت ضرورمانی چاہئے کہ اُن کے اہل وعیال اُن سے مل سکیں۔-۲- قادیان میں قریباً پچاس ساٹھ ایسے احمدی زائر مقیم ہیں جو ایام فسادات میں یہاں آئے تھے اور اب وہ واپس اپنے وطن پاکستان جانے کے لئے بے تاب ہیں۔اس کے علاوہ قادیان کے بعض ابتدائی باشندے یہاں از سر نو آبادہونا چاہتے ہیں۔۳۔حکومت نے صدر انجمن احمدیہ قادیان کی قیمتی جائداد مترو کہ قرار دے کر اپنے قبضہ میں لے رکھی ہے حالانکہ یہ انجمن آب بھی قادیان میں قائم ہے۔۴ - قادیان کے بعض تعلیمی اداروں کو بہت جلد واگذار کر دیا جائے کیونکہ محض ان اداروں کے نہ ہونے کی وجہ ہی سے احمدی بچوں کی تعلیم نظر انداز ہورہی ہے۔۵- جو ہندوستانی احمدی مذہبی اور دینی تعلیم سیکھنے کے لئے باہر جانا چاہیں انہیں ہر قسم کی سہولتیں دی جائیں۔احمدیوں کی جو مسجدیں اور قبرستان ملکی فسادات کے دوران مسمار کئے جاچکے ہیں وہ واگزار کی جائیں اور انکی مرمت و تعمیر کے لئے مناسب انتظامات کئے جائیں۔ے۔قادیان احمدیوں کا مذہبی مرکز ہے مگر حکومت نے شرنارتھیوں کو بعض حالات کے تقاضا کے تحت اس میں رہنے کی اجازت دے دی ہے نیز قادیان میونسپلٹی نے قادیان کے بعض ایسے محلوں اور گلیوں کے اسلامی نام بدل دئے ہیں جن سے مذہبی تقدس اور سلسلہ احمدیہ کی بعض قدیم روایات وابستہ ہیں۔اس اقدام سے احمدیوں کے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچی ہے۔قادیان کے محلوں اور گلیوں کے پہلے اسلامی نام بحال کئے جائیں اور جماعت احمدیہ کے مذہبی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔اخبارسول اینڈ ملٹری گزٹ کے خصوصی نامہ نگار نے اس جلسہ کی مفصل روداد لکھی جو اس اخبار کی ۲۹ دسمبر ۱۹۴۹ء (ص ۶) کی اشاعت میں شائع ہوئی ہے جلسہ بوہ ٹھیک انہی تاریخوں میں جبکہ حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی مقدس ہستی میں شمع احمدیت کے پروانے جمع ہوئے سرزمین ربوہ میں احمدیت کے نئے مرکز کا دوسرا سالانہ جلسہ لے خبر کا متن ضمیمہ میں ملاحظہ ہو۔