تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 41
بات کا اہل ہے کہ اس کا جائزہ لیا جائے کہ آیا وہ امتی ہے یا منافقی پس اگر کوئی شخص خلیفہ وقت نظام جماعت یا افراد جماعت کے خلاف ان سات قسم کے لوگوں کے سوا کسی اور کے سامنے کوئی بات کرتا ہے تو ایسے شخص کی رپورٹ میرے پاس آنی چاہیئے تاکہ اگر وہ اصلاح کے قابل ہے تو اس کی اصلاح کی جائے ہمارے ہاتھ میں صرف یہی ہے کہ ہم اس کا مقاطعہ کر دیں یہ نہیں کہ اسے مار پیٹ کریں مار پیٹ کرنا گورنمنٹ کے ہاتھ میں ہے۔بہر حال جماعت کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی اصلاح کی جائے کہیں پھر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ رحم کے یہ معنے نہیں کہ باغ میں گھاس اُگا ہو اور اسے کاٹا نہ جائے اگر کوئی باغبان اس گھاس پر رحم کرتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ درخت مرجھائے گا۔اگر کوئی شخص سانپ پر رحم کرتا ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ سانپ اس کے بچہ کو کاٹ لے گا۔باؤلے گئے پر اگر کوئی رحم کرتا ہے تو اچھے شہری مارے جائیں گے یہ رحم نہیں ظلم ہے۔رحم کی مستحق سب سے اول جماعت ہے۔رحم کا ستحق سب سے اول سلسلہ ہے۔رحم کا ستحق سب سے اول نظام سلسلہ ہے۔اور جو شخص ان کے خلاف باتیں کرتا ہے وہ اس قابل نہیں کہ اسے جماعت میں رہنے دیا جائے یا راہ حضرت مصلح موعود نے اس تحریک کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا :- منافق لوگ جماعت کو یا مجھے اس وقت تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ یہ ہماری ترقی کا رنا ہے۔اس وقت ان کی حیثیت ایک مچھر کی بھی نہیں مچھر کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے مگر وہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے لیکن پھر بھی انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اگر یہ بیچ قائم رہا تو جب جماعت کمزو ہو جائے گی اس وقت اسے نقصان پہنچائے گا اس لئے ہمارا یہ فرض ہے کہ نہ صرف ہم اپنی اصلاح کریں بلکہ ایسے لوگوں کی بھی اصلاح کریں جو جماعت کے لئے آئندہ کسی وقت بھی مضر ہو سکتے ہیں۔پس ان لوگوں کو کچلنا ہمارا فرض ہے خواہ ان کے ساتھ ان سے ہمدردی رکھنے والے بعض بڑے لوگ بھی کچلے جائیں اور ہر مخلص اور بچے مبالغ کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بارہ میں میری مددکر ہے اور ایسے لوگوں کے متعلق مجھے اطلاع دے۔اور اگر کوئی احمدی میرے اس اعلان کے بعد اس کام میں کو تا ہی کرے گا تو خدا تعالیٰ کے نزدیک مومن نہیں ہو گا بلکہ اُس کی بیعت ایک تسخر بن جائے گی کیونکہ سه روزنامه الفضل مورخہ یکم فتح ١٣٣١ / یکم دسمبر (۱۹۴ء ص ۵۲)