تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 425
(ترجمه) ربوه ۲۷ ماه شباط ۱۹۹ بسم الله الرحمن الرحيم ایم سید محمد صاحب ابن الحارج صالح صاحب سلیم اللہ تعالے ! السلام عليكم ورحمة الله وبرضاته کے بعد واضح ہو کہ آپ کے والد الحاج صالح العووی اب اللهکی منتیں جوں ان پر) کی وفات کی ناکہانی خبر سن کر از صد افسوس ہوا - انا لله و انا الیه راجعون كُل أبن أدى وَ إِنْ طَالَتْ سَلَامَتُهُ يوما على آلَةٍ حَدُ بَاءَ يَحمول د ہر شخص اخواہ وہ کتنی ہی لمبی عمر پائے ایک روزہ موت کا شکار ہونے والا ہے) آپ کے والد مرحوم ، جیسا کہ مجھے علم ہے ، کہا بیر کے پہلے شخص ہیں جو جماعت احمدیہ میں داخل ہوتے۔وہ ابناء وطن میں دعوت حقہ کی اشاعت و تبلیغ کا فریضہ سعی کوشش ، بشاشت اور اخلاص سے پہچانا نے میں ایک نمونہ۔اللہ تعالئے انہیں ہمار کی طرف سے ان کے اخلاص ومحبت کی بہترین جزا دے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالے انہیں اپنی بے پایاں رحمتت ڈھانپ سے۔انہیں اپنی کو مع جنتوں میں جگہ دے اور دار النعیم میں اُن کا اجر و ثواب فراواں کرے اور آپ کے اور آپ کے بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کے دل پر اپنی طرف سے صبر جمیل نازلی فرمائے اور آپ کو اپنے نیک پیش رو کے نیک جانشین بننے کی توفیق عطا فرمائے۔نیز میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالئے مولوی محمد شریف صاحب کو ایسی کامل شفاء عطا فرمائے جو مرض کا کوئی حصہ باقی نہ رہنے دے۔کابر کے تمام بھائیوں کو میرا سلام پہنچادی اور میری یہ وصیت بھی کردہ اپنے سے بعد میں آنے دانوں کے لئے نیک نمونہ اور اعلیٰ مثال بنیں۔والسلام عليكم میرزا محمود احمد خلیفہ ثانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام " بخش