تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 414
کر رہا ہوں کہ اتنا بڑا رسول اس لئے آیا تھا کہ ایران کے تیل کے بیٹے آزاد ہو جائیں۔اس لئے آیا تھا کہ مصر آزاد ہو جائے۔اس لئے آیا تھا کہ فلسطین اور شام اور لبنان کے جھگڑے دُور ہو جائیں۔لیکن جانتا ہوں کہ مخالف یہ کہیں گے کہ دیکھا ہم نہیں کہتے تھے یہ لوگ مسلمانوں کے دشمن ہیں انہیں اسلامی ممالک کی آزادی سے کوئی تعلق نہیں لیکن لیکن ان کے اعتراضات کی پرواہ نہیں کرتا لیکن جانتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور آپ کی شان کیا ہے۔کہیں جانتا ہوں کہ اس عظمت اور شان کے مقابلہ میں اس اونی ترین مقصد پر آکر ٹھہر جانا قطعی طور پر اپنی نا بینائی کا اظہار کرنا ہے۔اگر محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی عظمت ایران کے تیل کے چشموں کے آزاد ہوئے سے قائم ہوتی ہے۔اگر محمدرسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی عظمت مصر سے انگریزی فوجوں کے نکل جانے سے قائم ہوتی ہے تو پھر جب انگریزوں نے ایک ایک ملک سے مسلمانوں کو کان پکڑ کر نکال دیا تھا تو تمہیں کہنا چاہیے تھا کہ عیسائی کی عظمت ظاہر ہوگئی بلکہ عیسائیت کی موجودہ طاقت کو نظر رکھتے ہوئے تمہیں اب بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ عیسائیت اسلام پر بازی لے گئی لیکن ہر باشعور انسان جو حقیقت کو جانتا ہے اور سمجھ سکتا ہے کہ ملکوں کی آزادی بالکل اور چیز ہے اور مذہب کا غلبہ ایک دوسری چیز ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے دنیا میں آکر یہ اصول پیش فرمایا کہ تمهاره ی مطمح نظر نهایت اونی ہے تمہیں اپنے افکار کو بلند کرنا چاہیئے۔تمہیں سمجھنا چاہئیے کہ تمہارا کیا منصب ہے اور کونسا کام ہے جو خداتعالی نے تمہارے سپرد کیا ہے۔بے شک سیاست کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کی اصلاح ضروری ہے۔بے شک دولت کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کو ترقی کی ضرورت ہے۔بے شک تمدن کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کو اپنے اندر تغیر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔مگر محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض یہ تھی کہ اسلام کو روحانی طور پر دنیا میں غالب کیا جائے۔اب اس کی تشریح کرو تو اس عظیم الشان مقصد کے یہ معنے بن جاتے ہیں کہ اسلام اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے دلائل اتنی طاقت پکڑ جائیں کہ مسلمانوں کے ساتھ باتیں کرتے وقت وہ کئی کترانے لگیں۔آج یورپ میں جو بھی لٹریچر شائع ہوتا ہے اس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ اسلام میں فلای نقص ہے اور اسلام میں فلاں خرابی ہے، لیکن کل اسلام کو ایسا غلبہ حاصل ہو کہ یورپ کے رہنے والے اپنی کتابوں میں یہ لکھیں کہ اسلام میں فلاں بات بہت اعلیٰ ہے مگر عیسائیت بھی اس سے بالکل معالی نہیں شیخ کی فلاں فلاں بات سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی دنیا کے سامنے یہی بات پیش کی تھی۔آج کا یورپ زدہ مسلمان یورپ کی ڈیما گرمی کو دیکھ کر کہتا ہے کہ قرآن سے بھی کچھ کچھ ایسے ہی اصول ثابت ہوتے ہیں اور یہ خوبی ہمارے اندر