تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 413
۴۰۶۔۔۔۔سے زیادہ ہے پر سوال یہ ہے کہ اگر ایسا بھی ہو جائے تو یہ کونسا مقصد ہے جو ہر مسلمان کے سامنے رہنا چاہیئے۔میں نے بتایا ہے کہ اگر کوئی آدمی مر رہا ہو تو ہماری خواہش ہوگی کہ خدا کرے وہ بچ جائے لیکن کیا جو شخص مرنے سے بچے بجائے وہ بادشاہ ہو جایا کرتا ہے یا کوئی بڑا علم ہو جایا کرتا ہے مسلمانوں کی آزادی کے لئے بہد و جہد کے معنے صرف اتنے ہیں کہ مسلم باڈی پالیٹکس میں مرض پیدا ہو چکا ہے اور وہ اس مرض کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہماری خواہش ہوگی کہ وہ مرض دور ہو جائے بلکہ ہماری دعا ہو گی کہ وہ مرض دور ہو جائے۔لیکن اگر یہ مرض دور ہو جائے تب بھی دنیا کی قوموں میں بیٹھتے وقت ایک سلمان کی کیا پوزیشن ہو گی ؟ اگر ایران بھی آزاد ہو جائے۔اگر مصر کے مسائل بھی حل ہو جائیں۔اگر فلسطین اور شام اور لبنان بھی آزاد ہو جائیں۔اگر سوڈان بھی آزاد ہو جائے۔اگر تمام اسلامی ممالک کے جھگڑے ختم ہو جائیں۔ان کی طاقت بڑھ جائے۔ان کا روپیہ زیادہ ہو جائے۔ان کی عظمت ترقی کر جائے۔تمام دولت ان کے ہاتھ میں آجائے۔تمام تجارت جو اس وقت امریکہ کے پاس ہے اس پر ان کا قبضہ ہو جائے پھر بھی بارہ آنے کے مقابلہ میں وہ چار آنے کے مالک رہتے ہیں۔اور جب ان کی حالت یہ ہوگی کہ چوٹی ان کے پاس ہوگی، اور بارہ آنے غیر کے پاس ہوں گئے تو اسلام کس طرح غالب آیا اور محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی عظمت کسی طرح قائم ہوئی۔غرض جو شخص بھی اس مسئلہ پر اس رنگ میں غور کرے گا اور عقل سے کام لے گا وہ بعثت محمدیہ کی یہ غرض قرار دینا کہ سیاسی لحاظ سے ایران آزاد ہو جائے مصر آزاد ہو جائے۔شام او فلسطین آزاد ہو جائیں۔لبنان آزاد ہو جائے۔سوڈان آزاد ہو جائے۔پاکستان مضبوط ہو جائے اپنی انتہائی بیست خیالی منور کرے گا۔وہ شرمائے گا کہ یکں یہ کیا کہہ رہا ہوں اور کونسا مقصد ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی طرف منسوب کر رہا ہوں۔کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِس لئے آئے تھے کہ یہ چھوٹے چھوٹے علاقے آزاد ہو جائیں۔کیا محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لئے آئے تھے کہ مسلمان دنیا میں ایک چھوٹی کی حیثیت حاصل کر لیں۔یکی تو سمجھتا ہوں اگر میرے واہمہ اور خیال میں بھی ایسا نظریہ آئے تو میرا ہارٹ فیل ہو جائے کہ لیکن کتنا پست نظریہ اس عظیم الشان اور مقدس انسان کی بعثت کے متعلق رکھ رہا ہوں جسے خدا نے اولین و آخرین کا سردار بنا یار میں تو سمجھوں گا میرے جیسا جھوٹا انسان دنیا میں اور کوئی نہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے عظیم الشان رسول کی طرف اتنا چھوٹا ، اتنا معمولی اور اتنا ادنی درجہ کا خیال متسوب