تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 408
جو مسلمانوں کے لئے تکلیف دہ ہیں۔ہم تعداد میں بہت تھوڑے ہیں اس لئے ان مشکلات کے ازالہ کے لئے کمالا زیادہ حصہ نہیں لے سکتے لیکن کم از کم دعا کا ہتھیار تو ہمارے پاس ہے پیس آؤ ہم دعا کریں کہ اللہ تعا لئے مسلمانوں کی ان مشکلات کو اپنے خاص فضل سے دور کرے اور نقصان کی بجائے ان مشکلات کو اسلام کی ترقی کا ذریعہ بنائے لے اس جلسہ سے کچھ عرصہ پیشتر مخالف احمدیت اخبار نے حکومت پاکستان عقیدہ احمدیت کی فاتحانہ شان کو امام جاعت احمدیہ کے خلاف کاروائی کرنے کا مشورہ دیا تھا۔حضرت امیر المومنین امصلح الموعود نے ایسے اخبار نویسوں کو مخاطب کرتے ہوئے ملال انگیز الفاظ میں کہا:۔تمہارے کہنے پر حکومت بے شک مجھے پکر سکتی ہے قید کر سکتی ہے مار سکتی ہے لیکن میرے عقیدہ کو وہ دیا نہیں سکتی اس لئے کہ میرا عقیدہ جیتنے والا عقیدہ ہے اور وہ یقیناً ایک دن جیتے گا تب ایسا تکبر کرنیوالے لوگ پشیمان ہونے کی حالت میں آئیں گئے؟ لیکن ساتھ میں فرمایا :۔خواہ اُس وقت یکی ہوں یا میر قائم مقام تم سے بھی ہر حال پوست و الا سلوک ہی کیا جائے گایہ ہے۔حضرت مصلح موعود نے عقیدہ احمدیت کی اس فاتحانہ شان کی ایک دوسرے موقع پر مزید تشریح بھی کی اور فرمایا کہ احمدیت صداقت اور سچائی پھیلانے آئی ہے اس لئے ایک وقت آنے والا ہے کہ 99 فیصدی لوگ اس میں داخل ہو جائیں گے اور اس وقت باقی لوگ یہ خیال کریں گے کہ شاید اب احمدی ان کے عضلات فتوی دیں گے لیکن۔۔۔جب خدا تعالی ہمیں اکثریتعطا کرے گا تو ہم باقی لوگوں سے کہیں گے کہ جو باتیں تمنے پہلے کسی ہیں ہم وہ بھی معاف کرتے ہیں اور آئندہ بھی تم اپنا اختلاف ہم سے ظاہر کر سکتے ہویے کبھی تم نے کوئی ایسی صداقت بھی دیکھی ہے یا دنیامیں کوئی ایسی سچائی بھی آئی ہے جس نے یہ اعلان کیا ہو کہ وہ گھٹے گی بڑھے گی نہیں۔کیا حضرت موسی علیہ السلام یہ نہیں کہا کرتے تھے کہ وہ بڑھیں گے گھٹیں گے نہیں۔اور جب حضرت موسی علیہ السلام کہا کرتے تھے کہ وہ بڑھیں گے گھٹیں گے نہیں تو کیا وہ اس وقت فساد کرتے تھے اور سرزنش کے قابل تھے۔کیا حضرت عیسی علیہ السلام یہ نہیں کہا کرتے تھے کہ وہ بڑھیں گے گھٹیں گے نہیں۔اور جب وہ کہا کرتے تھے ہم بڑھیں گے گھٹیں گے نہیں تو کیا وہ فساد کرتے تھے یا شرارت کرتے تھے له الفضل بر صلح ۱۳۳۱ ش / جنوری ۱۹۵۲ من له الفضل سور صلح ۱۳۳۱ مش / جنوری ۲۱۹۵۲ م اور چوں کہ احمدیت سچائی اور صداقت پھیلانے آئی ہے۔