تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 389
۳۸۳ دو ماہ میں ایک سطر بھی نہ لکھ سکے اور تیسرے ماہ وہ دن کالم روزانہ لکھے تو بھی وہ ۳۰۰ کالم لکھ لے گا جو ہے اس مطبوعہ صفحات کے برابر ہو گا اور یہ کافی لمبا مضمون ہے۔اس طرح مفید لٹریچر مل سکتا ہے اور بلینے میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے، سلہ حضرت مصلح موجود ہ نے بیش قیمت ہدایات پر مشتمل تقریر کے بعد مجامعتہ المبشرین کے اساتذہ طلبہ اور فارغ التحصیل مبلغین کے لئے دعا فرمائی۔اور یہ حضور کی دعا ہی کا اثر ہے کہ اس سال جامعہ پاکس کرنے والے مبلغین کو جو جامعہ المبشرین کے پہلے پھل کہلانے کے مستحق ہیں اندرون، پاکستان کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی اعلائے کلمہ اللہ کی توفیق ہی ہے۔ان میں سے اکثر اب بھی خدمت اسلام میں مصروف عمل ہیں۔اس پہلی کلاس کے بعض مبلغین کے نام مع ان کے ممالک تبلیغ کے حسب ذیل ہیں :۔مرزا محمد اور نہیں صاحب ( بور نیو- یوگنڈا۔انڈونیشیا) مولوی عبد القدیر صاحب شاہد (غان سیرالیون) عبد اللطیف صاحب پریمی (غانا) مولوی محمد صدیق صاحب گورداسپوری (سیر انیون رنمانا امریکہ مولوی مبارک احمد صاحب سابقی (نایبیریا۔لائبیریا) میرمسعود احمد صاحب (ڈنمارک) صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب ( انڈونیشیا، مولوی محمد اجمل صاحب شاہد (نائیجیریا) اه الفضل ، فتح ۳۰ ریش مکہ پر حضور کا مکمل خطاب شائع شدہ ہے ؟